LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا وفاق کو جواب، انسداد دہشت گردی پر تنازع

News Image
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے صوبے کے انسداد دہشت گردی اقدامات پر وفاقی وزراء کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے امن کی بحالی کے لیے پالیسی میں واضح تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی کرسی کو ٹھکراتے ہیں جو نظریے سے دور کر دے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے صوبے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں اور سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے وفاقی وزراء کی جانب سے کی جانے والی شدید تنقید پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب وفاقی وزراء نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کی مبینہ سہولت کاری کے الزامات عائد کیے۔ ان الزامات کے جواب میں وزیراعلیٰ نے نہایت جارحانہ اور دفاعی انداز اپناتے ہوئے وفاق کو آڑے ہاتھوں لیا اور صوبے کے کردار کو سراہا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے صوبے کے شہداء اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صوبے کے حقوق اور امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔ اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے اب روایتی پالیسیوں سے ہٹ کر ایک جامع اور عملی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک وفاقی اور صوبائی ادارے باہمی الزام تراشی کی بجائے مشترکہ لائحہ عمل تیار نہیں کرتے، امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ایک اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ ایسی کسی بھی کرسی یا عہدے کو لات مارتے ہیں جو انہیں ان کے نظریے سے دور کرے یا صوبے کے مفادات پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کرے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ سرد جنگ ملک کے مجموعی سیاسی اور سکیورٹی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔