Business
پنجاب کی وہیلنگ نیلامی میں شرکت اور توانائی کی صورتحال پر نظر
صوبہ پنجاب نے پاکستان کی پہلی چار سو میگاواٹ کی وہیلنگ نیلامی میں ممکنہ شرکت کے حوالے سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد توانائی کے شعبے میں شفافیت لانا اور صنعتی صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
صوبہ پنجاب نے پاکستان کی تاریخ کی پہلی چار سو میگاواٹ کی وہیلنگ نیلامی میں ممکنہ شرکت کے حوالے سے باضابطہ جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نیلامی کے ذریعے صنعتی اور تجارتی شعبے کو براہ راست بجلی کی ترسیل کے نئے اور جدید مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس ضمن میں صوبائی سطح پر اعلیٰ سطحی اجلاسوں کا انعقاد کیا جا रहा ہے تاکہ اس نیلامی کے تمام تکنیکی اور مالیاتی پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا سکے اور پنجاب کے لیے اس کے فوائد کا تخمینہ لگایا جا سکے۔
دوسری جانب ملک بھر میں بجلی کے صارفین کے لیے ٹیرف میں اضافے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ نیپرا کے روبرو بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواستوں پر غور جاری ہے جس کے تحت فی یونٹ ایک روپیہ تہتر پیسے تک اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں صنعتی حلقوں کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ پہلے ہی بلند ترین پیداواری لاگت کی وجہ سے پاکستانی برآمدات خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مسابقتی میدان میں مشکلات کا شکار ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ وہیلنگ ماڈل جیسے متبادل انتظامات ہی صنعتوں کو ریلیف فراہم کرنے کا واحد ذریعہ بن سکتے ہیں۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہیلنگ ریگولیشنز کے نفاذ سے پاور سیکٹر میں ایک نئی مسابقتی فضا قائم ہوگی جہاں پرائیویٹ ادارے بھی بجلی کی خرید و فروخت میں حصہ لے سکیں گے۔ اس سے نہ صرف سرکاری تقسیم کار کمپنیوں پر دباؤ کم ہوگا بلکہ صارفین کو بھی اپنی پسند کے بجلی فراہم کنندگان کے انتخاب کا موقع ملے گا۔ پنجاب حکومت اس پورے عمل کو انتہائی قریب سے مانیٹر کر رہی ہے تاکہ صوبے کے صنعتی یونٹس کو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔
آنے والے دنوں میں اس نیلامی کے حوالے سے حتمی فیصلے متوقع ہیں جبکہ وفاقی وزارتِ توانائی اور نیپرا کے مابین بھی اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز اس بات پر متفق ہیں کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ ملک کو موجودہ مالیاتی بحران سے نکالا جا سکے اور پائیدار بنیادوں پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔