LIVE
Loading Breaking News...

امریکی میڈیا کا وائٹ ہاؤس کی پابندی کیخلاف عدالت سے رجوع

News Image
سی این این اور پولیٹیکو سمیت تین اہم امریکی میڈیا اداروں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے داخلے پر پابندی کے خلاف حکم امتیازی میں توسیع کی جائے۔ یہ قانونی اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب سابقہ عدالت نے عارضی طور پر پابندی معطل کر دی تھی۔
امریکی خبر رساں اداروں سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے عدالت سے باضابطہ طور پر یہ استدعا کی ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان کے نمائندوں کے داخلے پر لگائی جانے والی پابندی کے خلاف جاری کردہ حکم امتیازی میں توسیع کی جائے۔ یہ پیش رفت اس تنازع کے بعد سامنے آئی ہے جب مذکورہ میڈیا آؤٹ لیٹس نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو آئین کی پہلی شق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ اس سے قبل ایک وفاقی جج کے حکم پر ان اداروں کے نمائندوں کو عارضی طور پر وائٹ ہاؤس میں رسائی بحال کر دی گئی تھی۔ موجودہ قانونی جنگ میں میڈیا اداروں کے وکلاء اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ چودہ روزہ عارضی حکم نامے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اس پابندی کو مستقل طور پر روکا جائے تاکہ پریس کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین قانون کے مطابق اس مقدمے کے نتائج امریکی میڈیا اور انتظامیہ کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کریں گے، کیونکہ آزادی صحافت کے حوالے سے یہ ایک اہم قانونی جنگ بن چکی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے تحال اس معاملے پر مزید کوئی سخت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم میڈیا ہاؤسز اپنے آئینی حقوق کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔ تمام متعلقہ فریقین اس وقت عدالت کے آئندہ فیصلے کے منتظر ہیں جو یہ طے کرے گا کہ آیا وائٹ ہاؤس کو میڈیا کے داخلے پر کسی قسم کی من مانی پابندی کا حق حاصل ہے یا نہیں۔