World
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مصالحت یمنی بحران کے تناظر میں
یمن میں حوثی باغیوں کے اثرات کو روکنے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قریبی مصالحت پر زور دیا گیا ہے۔ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے دونوں خلیجی ممالک کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
یمن کے پیچیدہ اور طول پکڑتے ہوئے سیاسی و عسکری بحران کے تناظر میں بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے ایک اہم مطالبہ سامنے آیا ہے جس کے تحت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک مشترکہ اور موثر لائحہ عمل اختیار کریں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یمن کے اندرونی حالات کو بہتر بنانے اور حوثی separatists کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو پیچھے دھکیلنے کے لیے خلیجی خطے کے ان دو اہم ترین ممالک کا ایک پیج پر ہونا انتہائی ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق پچھلے کچھ عرصے کے دوران یمن کے جنوبی علاقوں میں سکیورٹی اور سیاسی نوعیت کے بعض معاملات پر ریاض اور ابوظہبی کے مابین پالیسیوں میں کچھ فرق دیکھا گیا ہے جس سے حوثی باغیوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع مل رہا ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی گارڈین اور دیگر تجزیاتی اداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات فوری طور پر باہمی مصالحت کی راہ اختیار نہیں کرتے تو یمن میں امن کی بحالی کی تمام تر کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں اور خطے کا سکیورٹی ماحول مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمن کا تنازعہ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن کے لیے بھی انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔ حوثی فورسز کی جانب سے سمندری راستوں اور اہم تنصیبات پر ہونے والے حملے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ خلیجی ممالک تمام تر فروعی اختلافات کو بھلا کر متحد ہو جائیں۔ مشترکہ عسکری و سیاسی حکمت عملی ہی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ یمن میں ریاستی رٹ کو بحال کیا جا سکے اور عام شہریوں کو درپیش انسانی بحران کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ دونوں ممالک اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات کا آغاز کریں اور یمن کی جائز حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے اپنے وسائل کو یکجا کریں۔ خطے میں امن کے خواہاں حلقے امید ظاہر کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی، جس سے نہ صرف یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری کوششوں کو تقویت ملے گی بلکہ پورے خطے میں پائیدار امن کی راہ بھی ہموار ہوگی۔