LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ انتظامیہ اور نیویارک ٹائمز سمن کا تنازعہ

News Image
نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران اخبار اور اس کے صحافیوں کو شمالی کوریا سے متعلق ایک خبر کے سلسلے میں صوابدیدی سمن جاری کیے گئے تھے۔ محکمہ انصاف کی جانب سے صحافیوں پر دباؤ ڈالنے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے سمن کے استعمال میں اضافے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے حال ہی میں ایک اہم انکشاف کیا ہے جس کے مطابق سابق ٹرمپ انتظامیہ کے دور حکومت میں اخبار اور اس کے صحافیوں کو شمالی کوریا سے متعلق ایک رپورٹنگ کے معاملے میں سرکاری سمن موصول ہوئے تھے۔ اس اقدام کا مقصد صحافیوں کو ان کے خفیہ ذرائع افشا کرنے پر مجبور کرنا تھا، جو کہ صحافتی آزادی کے بنیادی اصولوں پر ایک بڑا حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے میڈیا اور قانونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا سرکاری ادارے اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، امریکی محکمہ انصاف کو صحافیوں کو ذرائع بتانے پر مجبور کرنے کے لیے قانونی نوٹسز اور سمن کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ صحافتی آزادی کو تحفظ فراہم کرنے والے قوانین کے باوجود اس طرح کے ہتھکنڈے آزادی صحافت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ذرائع کے مطابق، حکومتی اداروں کی جانب سے اس قسم کے دباؤ کا مقصد قومی سلامتی کے نام پر حساس معلومات کے اخراج کو روکنا تھا، لیکن اس سے شفافیت اور جمہوری اقدار کو نقصان پہنچا۔ صحافتی تنظیموں نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور انہیں اس طرح کے حکومتی دباؤ سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ اخبارات اور میڈیا ہاؤسز کا موقف ہے کہ اگر صحافیوں کو اپنے ذرائع بتانے پر مجبور کیا گیا تو اس سے تحقیقاتی صحافت کا خاتمہ ہو جائے گا اور عوام تک اہم حقائق پہنچانا ناممکن ہو جائے گا۔ یہ تنازعہ اب ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرا رہا ہے کہ جمہوریت میں میڈیا اور ریاست کے درمیان تعلقات کس قدر حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔