LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صحافی ایوان گیرشوچ کا روسی حراست پر بڑا انکشاف

News Image
امریکی صحافی ایوان گیرشوچ نے روسی حراست کے دوران پیش آنے والے خوفناک اور کٹھن لمحات کی تفصیلات سے پردہ اٹھایا ہے۔ انہیں سال 2023 میں روس میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں جاسوسی کے الزامات کے تحت سولہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
واشنگٹن: امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے نامور صحافی ایوان گیرشوچ نے روس میں اپنی حراست اور گرفتاری کے دکھی اور خوفناک تجربات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح روسی سکیورٹی ایجنٹس نے انہیں اچانک حراست میں لیا اور اس کے بعد انہیں کن کٹھن مراحل سے گزرنا پڑا۔ ایوان گیرشوچ کو سال 2023 کے دوران روس میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ایک پیشہ ورانہ زمینی دورے اور رپورٹنگ کے سلسلے میں وہاں موجود تھے۔ اس گرفتاری نے بین الاقوامی سطح پر بڑی ہلچل مچا دی تھی اور مغربی ممالک بالخصوص امریکہ میں اس کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ روسی حکام کی جانب سے ان پر بے بنیاد جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے تھے جنہیں ان کے ادارے، خاندان اور امریکی حکومت نے شروع ہی سے یکسر مسترد کر دیا تھا۔ اس کیس کی سماعت کے بعد روسی عدالت نے انہیں سولہ سال قید کی طویل سزا سنا دی تھی، جس نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافتی حلقوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ اپنی رہائی کے بعد جب ایوان نے اس واقعے کی تفصیلات بیان کیں تو انہوں نے انکشاف کیا کہ کس طرح روسی ایجنٹس نے انہیں گھیرے میں لیا اور ابتدائی تفتیش کے دوران انہیں شدید ذہنی دباؤ اور نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ دنیا بھر میں صحافت کی آزادی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن گیا تھا، کیونکہ ایک صحافی کو محض اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کے پاداش میں اس قدر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ بین الاقوامی سطح پر اس نوعیت کے واقعات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آمرانہ یا سخت گیر حکومتوں کے دور میں سچائی کو بیان کرنے اور خبریں جمع کرنے والے صحافی کتنے بڑے خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ ایوان گیرشوچ کا یہ بیان ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ اس اہم ترین مسئلے کی طرف مبذول کروا رہا ہے جہاں صحافیوں کی سلامتی اور تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔