LIVE
Loading Breaking News...

ایفل ٹاور کے سربراہ کا استعفیٰ، مذہبی دورے پر خواتین عملے کی تبدیلی کا معاملہ

News Image
فرانسیسی دارالحکومت میں ایفل ٹاور کو چلانے والی کمپنی کے سربراہ نے خواتین عملے کو ایک مذہبی دورے کے دوران مردوں سے تبدیل کیے جانے پر استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی نے اس واقعے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پیرس میں واقع دنیا کے مشہور ترین سیاحتی مقام ایفل ٹاور کو چلانے والی کمپنی کے سربراہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب رواں ماہ کے شروع میں ایک مذہبی دورے کے دوران خواتین عملے کو ہٹا کر ان کی جگہ مرد ملازمین کو تعینات کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے فرانس سمیت بین الاقوامی سطح پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور اسے امتیازی سلوک سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ ایفل ٹاور کی انتظامیہ چلانے والی کمپنی نے اس عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے یکسر ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ امور میں صنفی بنیادوں پر اس طرح کی تفریق اور تبدیلی کسی بھی صورت میں قابلِ برداشت نہیں ہے اور اس سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ حکام نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب، اس واقعے کے بعد مزدور یونینز اور مساوات کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کام کی جگہ پر صنف کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی امتیاز پسندی کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔ استعفیٰ دینے والے سربراہ کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ بڑھتے ہوئے دباؤ اور اس تنازعے کی وجہ سے انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ فرانسیسی حکام کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات سے ملک کے سیکولر اور مساوی اقدار کو دھچکا لگتا ہے، جو کہ ایفل ٹاور جیسے عالمی سطح پر نمایاں مقامات پر ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید انتظامی تبدیلیاں متوقع ہیں جبکہ یونینز نے بھی ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے مطالبات کو مزید سخت کر دیا ہے۔