World
ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکی ووٹرز سے ٹرمپ انتظامیہ کو بدلنے کا مطالبہ
ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے ایک کھلے خط میں امریکی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ انتظامیہ کو تبدیل کریں۔ ایرانی فوج نے امریکی صدر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جاری جنگ کی صورتحال پر عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں۔
تہران: ایران کی مسلح افواج اور سپاہ پاسداران انقلاب (IRGC) نے ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے امریکی شہریوں اور ووٹرز کے نام ایک کھلا خط جاری کیا ہے۔ اس خط میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ امریکی ٹرمپ انتظامیہ کو فوری طور پر تبدیل کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے اور دنیا کو مزید بحرانوں سے بچایا جا سکے۔ ایرانی عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی موجودہ پالیسیاں نہ صرف عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خود امریکی عوام کے مفادات کے بھی خلاف ہیں۔
خط کے مندرجات کے مطابق، ایرانی عسکری حکام نے براہ راست الزام عائد کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جنگی صورتحال اور جاری تنازعات کے حوالے سے اپنے ہی ملک کے شہریوں کو حقائق سے بے خبر رکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے جاری جنگ کے حقیقی حالات کے بارے میں امریکی عوام کو جھوٹ بولا ہے اور وہ زمینی حقائق کو چھپا رہے ہیں۔ پاسداران انقلاب کے مطابق اس پروپیگنڈے کا مقصد صرف سیاسی فوائد حاصل کرنا ہے جبکہ اس کے بھیانک نتائج عام انسانوں کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر تناؤ عروج پر ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مبصرین کے نزدیک، ایرانی فوج کی جانب سے براہ راست امریکی ووٹرز کو مخاطب کرنا ایک غیر معمولی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد امریکی سیاسی منظرنامے اور رائے عامہ کو متاثر کرنا ہے۔ اس خط کو واشنگٹن کے خلاف تہران کی نفسیاتی اور سفارتی جنگ کا ایک نیا اور سخت مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، بین الاقوامی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس خط کے بعد امریکہ میں سیاسی ردعمل بھی آ سکتا ہے کیونکہ واشنگٹن بیرونی ممالک بالخصوص ایران کی جانب سے ملکی سیاست میں اس طرح کی براہ راست مداخلت یا بیانات کو ہمیشہ مسترد کرتا آیا ہے۔ امریکی عوام اور میڈیا کی طرف سے اس خط پر کس قسم کا ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے، آنے والے دنوں میں یہ صورتحال مزید واضح ہو گی، تاہم اس نے دونوں ممالک کے درمیان جاری سرد جنگ کو مزید گرما دیا ہے۔