LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں 2023 کے اسرائیلی حملے کے شہداء کی باقیات کی تدفین

News Image
غزہ میں سوگوار افراد نے سنہ 2023 کے اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہونے والے اپنے پیاروں کے ٹکڑے ٹکڑے شدہ باقیات کو سپردِ خاک کیا۔ اس دردناک موقع پر علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور لواحقین نے اپنے پیاروں کی یاد میں اشک بار آنکھوں سے آخری رسومات ادا کیں۔
غزہ کی پٹی میں غم اور اندوہ کے بادل ایک بار پھر گہرے ہو گئے ہیں جب درجنوں سوگوار افراد اپنے پیاروں کی باقیات کو دفنانے کے لیے جمع ہوئے۔ یہ وہ بدقسمت افراد ہیں جو سنہ 2023 میں ہونے والے شدید اسرائیلی فضائی حملے میں لقمہ اجل بنے تھے اور طویل عرصے تک ان کی شناخت یا باقیات کا حصول ممکن نہیں ہو سکا تھا۔ اس دردناک تقریب میں شریک افراد نے اپنے پیاروں کے ٹکڑے ٹکڑے شدہ جسمانی حصوں کو روایتی طریقوں سے سپرد خاک کیا، جس سے پورے علاقے میں فضا سوگوار ہو گئی۔ حاضرین کی آنکھیں اشک بار تھیں اور ہر آنکھ سے آنسو رواں تھے۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہونے والی تباہی نے غزہ کے باسیوں کو ناقابل فراموش زخم دیے ہیں۔ سنہ 2023 کے اواخر میں شروع ہونے والی اس تباہ کن جنگ میں ہزاروں بے گناہ شہری ہلاک ہوئے، جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ بہت سے معاملات میں بمباری اتنی شدید تھی کہ لاشیں ناقابل شناخت ہو گئیں یا ملبے تلے دب کر رہ گئیں۔ حالیہ دنوں میں جب کچھ خاندانوں کو اپنے شہداء کی باقیات ملیں، تو انہوں نے صدمے اور دکھ کی اس کیفیت میں ان کی تدفین کا فریضہ انجام دیا۔ یہ لمحہ لواحقین کے لیے انتہائی کٹھن تھا کیونکہ وہ ایک بار پھر اپنے پیاروں کی جدائی کے غم کو تازہ محسوس کر رہے تھے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، غزہ میں عام شہریوں کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات زندگی کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ شہداء کے لواحقین کو اپنے پیاروں کی باعزت تدفین کے لیے بھی کٹھن حالات کا سامنا ہے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ غزہ کے انسانی المیے کی طرف مبذول کرائی ہے، جہاں لوگ نہ صرف زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں بلکہ اپنے پیاروں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے بھی ترستے ہیں۔ غزہ کے اس دلخراش منظر نے سوشل میڈیا اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ دنیا بھر کے لوگ غزہ کے باسیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں اور فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس اجتماعی تدفین کے دوران سوگواروں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے پیاروں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے اور ان کا یہ دکھ تاحیات ان کے دلوں میں زندہ رہے گا۔