LIVE
Loading Breaking News...

يمن میں جنگ اور شاہراہوں کی بندش سے انسانی بحران میں اضافہ

News Image
يمن میں طویل جنگ اور اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہو گئی ہے۔ ملک بھر میں غذائی اور طبی بحران شدت اختیار کر گیا ہے جبکہ ہزاروں متاثرہ افراد کچی بستیوں اور کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
يمن میں طویل عرصے سے جاری تباہ کن جنگ کے باعث ملک کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، اور حال ہی میں اہم شاہراہوں اور بندرگاہوں کی بندش نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ جنگ کے اثرات براہ راست عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑ رہے ہیں، جہاں روزمرہ کی نقل و حرکت معطل ہو کر رہ گئی ہے اور ضروری اشیائے خوردونورد کی ترسیل میں شدید رکاوٹیں حائل ہو رہی ہیں۔ حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق سڑکوں کی بندش اور پرتشدد کارروائیوں میں اضافے کے بعد بڑے پیمانے پر سویلین نقل مکانی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ہزاروں خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر عارضی کیمپوں اور غیر محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ان کیمپوں میں بنیادی سہولیات جیسے کہ صاف پانی، خوراک اور ادویات کی عدم دستیابی کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور امدادی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے يمن کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور امدادی سامان کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بندرگاہوں اور شاہراہوں کو جلد بحال نہ کیا گیا تو قحط سالی اور وبائی امراض کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائے گا، جس سے معصوم شہریوں کی زندگیاں مزید خطرے میں پڑ جائیں گی۔