LIVE
Loading Breaking News...

صومالیہ میں ہائی جیک ہونے والا آئل ٹینکر بازیاب، پاکستانی عملہ شامل

News Image
صومالی سکیورٹی فورسز نے پانچ ماہ سے زائد عرصے قبل بحری قزاقوں کے قبضے میں جانے والے آئل ٹینکر کو ایک کامیاب کارروائی کے بعد بازیاب کرا لیا ہے۔ اس بحری جہاز پر کئی پاکستانی عملے کے ارکان بھی سوار تھے جن کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
صومالیہ کے نیم خود مختار علاقے پنٹ لینڈ کی سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کے دوران پانچ ماہ سے زائد عرصے قبل بحری قزاقوں کے قبضے میں جانے والے ایک آئل ٹینکر کو بازیاب کرا لیا ہے۔ یہ بحری جہاز طویل عرصے سے سمندری قزاقوں کے نرغے میں تھا اور اس پر پاکستانی عملے کے ارکان بھی سوار تھے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ پاکستان میں بھی انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، بازیابی کے اس آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور قزاقوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس بحری جہاز کو اغوا کیے جانے کے بعد سے ہی بین الاقوامی سطح پر اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے اس کی بازیابی کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا تھا۔ پنٹ لینڈ کی بحری فورسز نے بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف جہاز کو اپنے قبضے میں لے لیا بلکہ قزاقوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ اس جہاز پر سوار پاکستانی عملے کی سلامتی کے حوالے سے حکام کی جانب سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کی خیریت کی مکمل تصدیق کی جا سکے اور انہیں جلد از جلد وطن واپس لانے کے انتظامات کیے جائیں۔ واضح رہے کہ صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں بحری قزاقوں کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں ماضی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم سکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بحر ہند اور خلیجِ عدن میں تجارتی جہاز رانی کی سکیورٹی کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور میری ٹائم سکیورٹی ایجنسیوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جہازوں اور ان پر کام کرنے والے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس قسم کے ہائی جیکنگ کے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔