Politics
عبدالسید کی امریکی سینیٹ میں تاریخی فتح کی امید
مشی گن میں سینیٹ کا معرکہ ڈیموکریٹک پارٹی میں اسرائیل کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اختلافات کی عکاسی کر رہا ہے۔ اے آئی پیک کی جانب سے بھاری اخراجات کے باوجود ترقی پسند ڈاکٹر عبدالسید کی انتخابی مہم کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔
امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کا معرکہ اس وقت ملکی سیاست کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے، جہاں عرب نژاد امریکی برادری ڈاکٹر عبدالسید کی کامیابی کو ایک تاریخی سنگ میل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ انتخاب نہ صرف ایک نشست کے لیے مقابلہ ہے بلکہ یہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل سے متعلق پالیسیوں پر پائے جانے والے گہرے نظریاتی اختلافات کی بھی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ عبدالسید، جو کہ ایک ترقی پسند ڈاکٹر اور سیاست دان ہیں، اپنی مقبولیت کی بنیاد پر روایتی سیاسی دھاروں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، پرو-اسرائیل لابی بالخصوص امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (اے آئی پیک) نے عبدالسید کی انتخابی مہم کو ناکام بنانے کے لیے کروڑوں ڈالر پانی کی طرح بہا دیے ہیں۔ اے آئی پیک کی جانب سے جاری کردہ اشتہارات اور مسلسل حملوں کا مقصد اس ترقی پسند امیدوار کو شکست دینا ہے، تاکہ کانگریس اور سینیٹ میں اسرائیل مخالف یا منصفانہ مؤقف رکھنے والی آوازوں کو روکا جا سکے۔ تاہم، اس شدید مخالفت کے باوجود مشی گن کے ووٹرز، بالخصوص عرب اور مسلم کمیونٹی، عبدالسید کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عبدالسید اس انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ امریکی تاریخ میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو گا اور اس سے اقلیتی اور ترقی پسند سیاست کو ایک نئی تقویت ملے گی۔ انتخابی میدان میں جاری یہ کشمکش اس بات کی غماز ہے کہ امریکی سیاست میں اب خارجہ امور، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں پر ووٹرز کی رائے پہلے سے کہیں زیادہ جاندار اور اثر انگیز ہو چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مشی گن کے عوام کس کا انتخاب کرتے ہیں، آیا وہ روایتی لابنگ کے دباؤ کو قبول کرتے ہیں یا ایک نئے اور ترقی پسند مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔