LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع حل کرنے کے لیے ثالثوں کی سرگرمیاں

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور تعطل کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی ثالثوں نے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان الگ الگ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاکہ خطے میں جاری بحران کا کوئی قابل قبول حل نکالا جا سکے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید سیاسی و عسکری تعطل کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی ثالثوں نے اپنی کوششیں ایک بار پھر تیز کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فنانشل ٹائمز اور دیگر مؤقر عالمی اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے ساتھ الگ الگ رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ موجودہ جنگی صورتحال اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔ ثالث اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں فریقین کو بات چیت کی میز پر لایا جائے اور کسی بڑے تصادم کو روکا جا سکے۔دوسری جانب، تہران کی جانب سے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مجوزہ امن اور سکیورٹی پلان پر تاحال لچک دکھانے سے انکار کیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب واشنگٹن کی جانب سے پہلے ہی اس منصوبے کو مسترد کیا جا चुका ہے۔ قطر اس تنازع کو سلجھانے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ قطری ثالث جلد ہی امریکہ کے سامنے نئے خیالات اور تجاویز پیش کریں گے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور بحری آمدورفت کو بحال کرنے کا کوئی لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ادھر، وال اسٹریٹ جنرل کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق سابقہ امریکی انتظامیہ اور موجودہ سیاسی مباحثوں کے تناظر میں جنگ بندی کے حوالے سے بھی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ امریکی سطح پر ایران کے ساتھ فوری جنگ بندی کے امکانات کو بظاہر مسترد کیا جا رہا ہے اور وسطی مدت کے انتخابات کے بعد کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس تمام صورتحال میں خطے کے ممالک اور عالمی برادری کی نظریں قطر اور دیگر ثالثوں کی ان کوششوں پر مرکوز ہیں جو اس خطرناک ڈیڈلاک کو توڑنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔