AI
ٹرمپ اور اے آئی ایگزیکٹوز کی وائٹ ہاؤس ملاقات، خود ضابطہ کاری پر اتفاق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیکنالوجی کے سرکردہ اداروں کے سربراہان کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ایک اہم ملاقات ہوئی ہے۔ اس ملاقات کے دوران مصنوعی ذہانت کے شعبے میں زبردست خود ضابطہ کاری اور ڈیٹا سینٹرز کی حمایت پر اتفاق رائے کیا گیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دنیا کے معروف ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ارب پتی ایگزیکٹوز کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ایک انتہائی اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں ٹیکنالوجی کے اس جدید ترین شعبے کے مستقبل اور اس کے ضابطہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر تمام فریقین کے مابین اس بات پر اتفاق رائے پیدا ہوا کہ اے آئی انڈسٹری میں زبردست خود ضابطہ کاری (self-regulation) کو فروغ دیا جائے گا تاکہ اس کی ترقی کی رفتار برقرار رہے اور غیر ضروری حکومتی پابندیوں سے بچا جا سکے۔
اس اجلاس میں ٹیکنالوجی دنیا کی کئی بڑی شخصیات نے شرکت کی، جن میں میٹا کے مارک زکربرگ، اینتھروپک کے ڈاریو امودی اور دیگر اہم اے آئی ٹائٹنز شامل تھے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ان ملاقاتوں کے بعد مصنوعی ذہانت کے لیے بنیادی ڈھانچے کے طور پر کام کرنے والے ڈیٹا سینٹرز کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اے آئی کی دوڑ میں سب سے آگے رہنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی ناگزیر ہے۔
دوسری جانب، کانگریس کی طرف سے کسی بھی فوری قانون سازی کے فقدان کے تناظر میں، ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن نے امید ظاہر کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے قائم کیے جانے والے حفاظتی اقدامات (guardrails) رضاکارانہ نوعیت کے ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہت زیادہ سختی کرنے سے ٹیکنالوجی کی جدت طبع متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ صنعت خود اپنے ضابطے طے کرے۔
اجلاس کے بعد سیاسی اور تکنیکی حلقوں میں اس بحث نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے کہ آیا اے آئی کو مکمل طور پر از خود ضابطہ کاری کے سپرد کرنا چاہیے یا اس پر سخت قانونی نگرانی ہونی چاہیے۔ تاہم، حالیہ وائٹ ہاؤس ملاقات اور عشائیے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ انتظامیہ اور بڑی ٹیک کمپنیاں باہمی تعاون کے ذریعے اس شعبے کو آگے بڑھانے کی خواہاں ہیں تاکہ امریکہ دنیا بھر میں اے آئی کی قیادت پر فائز رہ سکے۔