World
متحدہ عرب امارات کا ایران سے تین جزیروں کے تنازع پر اقوام متحدہ میں مؤقف
متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے قبضے میں موجود تین جزیروں کے معاملے پر پرامن حل پر زور دیا ہے۔ اماراتی وزیر نے تنازع کے خاتمے کے لیے دو طرفہ مذاکرات یا بین الاقوامی عدالت انصاف کے ذریعے فیصلے کا مطالبہ کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں سیشن کے دوران ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تین متنازع جزیروں کے معاملے کا پرامن طریقے سے حل نکالا جانا چاہیے۔ اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تنازع خطے کے استحکام کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور اس کا منصفانہ حل نکالا جانا ناگزیر ہے۔ اماراتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے یا تو براہ راست مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے یا پھر معاملے کو بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے سپرد کر دیا جائے تاکہ قانون کے مطابق فیصلہ ہو سکے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے عام مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ نے خطے کے دیگر اہم مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے غزہ کے بحران، سوڈان کی جنگ اور یوکرین تنازع میں ثالثی کی کوششوں کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ اماراتی سفارتی وفد کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی خطے میں سکیورٹی اور سفارتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ محاذ آرائی سے بچا جا سکے۔
اماراتی حکومت کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ ابوب موسیٰ، طنب الکبریٰ اور طنب الصغریٰ کے جزائر پر متحدہ عرب امارات کی خودمختاری کے حق کو تسلیم کیا جانا چاہیے اور ایران کو اس قبضے کے خاتمے کے لیے مثبت اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ان سیشنز کے دوران اماراتی وزیرِ خارجہ نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں بھی کیں جن میں دو طرفہ تعلقات اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، متحدہ عرب امارات کی جانب سے عالمی پلیٹ فارم پر اس مسئلے کو اس طرح اٹھانا سفارتی دباؤ بڑھانے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ امارات ہمیشہ سے سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے، اور بین الاقوامی برادری سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرے گی تاکہ خلیج فارس کے خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے اور تمام فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو۔