Business
ٹرمپ کے ایران فیصلے پر تیل کی قیمتوں میں تیزی اور ٹوٹل انرجیز کی کمائی
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے متعلق پالیسی رد کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس صورتحال سے توانائی کے شعبے کی بڑی کمپنی ٹوٹل انرجیز کو فوری طور پر مالیاتی فائدہ پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔
عالمی توانائی کی منڈی میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے متعلق معاہدات یا پالیسیوں کو مسترد کرنے کی خبریں سامنے آئیں۔ اس سیاسی اور معاشی ہلچل کے فوری اثرات کے طور پر خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے جغرافیائی سیاسی فیصلوں سے عالمی منڈی میں تیل کی رس رسد اور سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں، جو براہ راست قیمتوں کو اوپر لے جاتے ہیں۔ اس تازہ ترین اضافے نے انرجی سیکٹر کے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ دوسری جانب فرانس کی معروف کثیر القومی توانائی کمپنی 'ٹوٹل انرجیز' اس بدلتی ہوئی صورتحال سے فوری طور پر فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں سرفہرست نظر آ رہی ہے۔ جیسے ہی مارکیٹ میں تیل کے نرخ اوپر گئے، اس کمپنی کے حصص اور مجموعی کاروباری سرگرمیوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا، جس سے کمپنی کے منافع بخش مارجن میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال یا امریکی پالیسیوں میں مزید سختی آئی، تو تیل کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ مزید تیز ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں ٹوٹل انرجیز جیسی بڑی کمپنیاں اپنی حکمت عملی کو نئے خطوط پر استوار کر رہی ہیں تاکہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی منڈی کے اندر زیادہ سے زیادہ تجارتی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ سرمایہ کار بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آنے والے ہفتوں میں توانائی کے شعبے میں مزید بڑے معاشی اتھل پتھل کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔