LIVE
Loading Breaking News...

خواجہ آصف کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل، وزارت اور پی سی بی سے تبدیلی شروع کرنے کی تجویز

News Image
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملکی نظامِ حکمرانی میں تبدیلی کے مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اصلاحات کا آغاز پارلیمنٹ، اپنی وزارت اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نظام میں تبدیلی کے لیے آئینی فورمز کا استعمال کیا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملکی نظامِ حکمرانی میں اور انتظامی ڈھانچے میں مکمل تبدیلی کے مطالبے پر بھرپور ردعمل ظاہر کیا ہے۔ خواجہ آصف نے وزیر داخلہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس تبدیلی کا آغاز قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد اور اپنی وزارت سے کریں۔ یاد رہے کہ پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا تھا کہ ملک کا گورننس سسٹم بیٹھ چکا ہے اور سروس ڈیلیوری، احتساب اور انصاف کی فراہمی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی ضرورت ہے۔ محسن نقوی کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جس پر اب دفاعی وزیر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر نظام کی موجودہ خراب صورتحال کے حوالے سے محسن نقوی کے خیالات سے کافی حد تک متفق ہیں۔ انہوں نے محسن نقوی کو ایک طاقتور شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر نظام کو مضبوط بنانا اور بنیادی تبدیلیاں لانی ہیں تو اس کا اصل فورم پارلیمنٹ ہے جہاں یہ معاملات زیر بحث لائے جانے چاہئیں یا پھر کابینہ کے اندر اس پر بات ہونی چاہیے۔ خواجہ آصف نے یہ بھی نکتہ اٹھایا کہ محسن نقوی گزشتہ تین سال سے نظام کے انتہائی طاقتور عہدوں پر فائز ہیں اور اگر وہ چاہتے تو اس عرصے کے دوران نظام میں تبدیلی کے لیے عملی اقدامات کر سکتے تھے۔ خواجہ آصف نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد کی ذمہ داری وزارت داخلہ کی بھی ہے جن پر تماً تر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ محسن نقوی کو نظام میں تبدیلی کی ابتدا اپنی وزارت اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کرنی چاہیے جس میں پوری قوم ان کے ساتھ ہوگی۔ اس کے علاوہ وزیر دفاع نے ایک اور بیان میں وزیر داخلہ کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، جس کی سربراہی بھی وہی کر رہے ہیں، میں ایک انقلاب لے آئیں کیونکہ عام شائقین کرکٹ بورڈ کی کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی میں تمام اختیارات محسن نقوی کے اپنے پاس ہیں اور وہاں کوئی وزیراعظم، پارلیمنٹ یا پرانا نظام رکاوٹ نہیں ہے۔ دوسری جانب، وزیر داخلہ کے اس بیان پر ملک بھر میں سیاسی ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس معاملے کو اپنے اعلیٰ ترین فورم پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے اس کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ لاہور کے وکلا نے اس تجویز کو غیر آئینی قرار دیا ہے اور سندھی قوم پرست جماعتوں نے بھی اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایسے میں خواجہ آصف کا یہ بیان ملکی سیاسی منظر نامے میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں حکومتی صفوں کے اندر سے ہی انتظامی اصلاحات کے طریقہ کار پر بحث شروع ہو گئی ہے۔