World
قطر کا اسرائیلی وزیراعظم پر غزہ جنگی جرائم سے توجہ ہٹانے کا الزام
قطر کے وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیلی رہنما بنجمن نیتنیاہو غزہ میں کیے جانے والے جنگی جرائم سے توجہ ہٹانے کی خاطر قطر کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کے ان دعوؤں کی شدید تردید کی ہے۔
قطر کے وزیراعظم نے برطانوی نشریاتی ادارے کے مشہور میزبان پیرس مورگن کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو غزہ میں جاری اپنے سنگین جنگی جرائم سے بین الاقوامی برادری کی توجہ ہٹانے کے لیے مسلسل قطر کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ قطری رہنما کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حربے اسرائیل کی اپنی ناکامیوں اور مظلوم فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قطر خطے میں امن کے قیام، کشیدگی کے خاتمے اور فلسطینیوں کی امداد کے لیے اپنی سفارتی کوششیں پوری تندہی کے ساتھ جاری رکھے گا، خواہ اس پر کتنی ہی سیاسی تنقید کیوں نہ کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر پر لگائے جانے والے تمام تر الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد صرف خطے کی اصل صورتحال سے لوگوں کی توجہ بھٹکانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ قطری وزیراعظم کا یہ بیان موجودہ سفارتی تناؤ کے پس منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ قطر نے غزہ میں جنگ بندی اور دونوں جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ثالث کا انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس انٹرویو کے بعد عالمی سطح پر بھی ایک بار پھر اسرائیلی طرز عمل اور غزہ کی سنگین انسانی صورتحال پر بحث چھڑ گئی ہے، جہاں بین الاقوامی ادارے مسلسل جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔