World
امریکہ کا ایران کی فوجی حمایت پر 10 اداروں پر پابندی کا اعلان
امریکہ نے ایران کے عسکری پروگرام کی مبینہ حمایت کرنے پر چین، پاکستان اور ترکی سمیت مختلف ممالک کے دس اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام تہران پر دباؤ بڑھانے کی جاری مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد عسکری سپلائی چین کو کمزور کرنا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے عسکری پروگرام اور فوجی سرگرمیوں کی مبینہ حمایت کرنے کے الزام میں دس اداروں اور افراد پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ تازہ ترین اقدامات تہران پر معاشی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کی اس وسیع مہم کا حصہ ہیں جو طویل عرصے سے جاری ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق ان پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور فرمز کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔
امریکہ کی جانب سے جن ممالک کے اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں چین، پاکستان، ترکی، ایران اور سعودی عرب شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ادارے مبینہ طور پر ایران کی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے اور عسکری سازوسامان کی فراہمی میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث تھے۔ امریکہ اس قسم کی پابندیوں کے ذریعے ایران کے دفاعی نیٹ ورک اور اس کے اتحادیوں کو مالی اور تکنیکی رس رسد سے محروم کرنا چاہتا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق یہ اقدام خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کی جانب سے خطے میں تخریبی سرگرمیاں اور فوجی خود کفالت کی کوششیں بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، لہذا اس کے سپلائی چین کو توڑنا انتہائی ضروری ہے۔ دوسری جانب، متاثرہ ممالک اور اداروں کی طرف سے اس فیصلے پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کی جانب سے یہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس قسم کے معاشی و تجارتی دباؤ سے ایران کی معیشت کے ساتھ ساتھ اس کے تزویراتی شراکت داروں کو بھی سفارتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے اثرات عالمی سطح پر تجارت اور سفارت کاری پر واضح طور پر دکھائی دینے کا امکان ہے۔