World
ٹرمپ کی کینیڈا پر پابندی، ایک ارب ڈالر کی کینیڈین اشیا متاثر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی جانب سے امریکی درآمدات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کے ردعمل میں ایک ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے ایک ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ تازہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس جوابی کارروائی کا حصہ ہے جو کینیڈا کی جانب سے بیس ارب ڈالر مالیت کی امریکی درآمدات پر عائد کیے گئے جوابی ٹیرف کے ردعمل میں کی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی محاذ آرائی میں دن بدن شدت آتی جا رہی ہے جس سے شمالی امریکہ کے ان قریبی حلیفوں کے باہمی تعلقات بھی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس تازہ پابندی سے دو طرفہ تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور سپلائی چین کے مختلف شعبے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کینیڈا کی جانب سے پہلے ہی امریکی مصنوعات پر اربوں ڈالر کے ٹیکس عائد کیے گئے تھے تاکہ واشنگٹن کی پالیسیوں کا دفاع کیا جا سکے، تاہم اب امریکی ردعمل کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ کاروباری حلقوں میں اس بات کی تشویش پائی جا رہی ہے کہ اگر یہ تجارتی رسہ کشی جاری رہی تو دونوں ممالک کی معیشتوں کو طویل المدتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی اور کینیڈین حکام کے درمیان ماضی میں قریبی تجارتی معاہدے موجود رہے ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں ٹیکسوں اور درآمدی محصولات کے نفاذ نے ان تعلقات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ہمیشہ سخت تجارتی مؤقف اپناتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی مفادات کا تحفظ سب سے پہلے کیا جائے گا۔ دوسری جانب کینیڈین حکومت بھی ملکی صنعتوں کے دفاع کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے اور وہ امریکی دباؤ کے سامنے آسانی سے جھکنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔
مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں فریقین نے مذاکرات کا راستہ اختیار نہ کیا تو یہ تجارتی تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی منڈیوں میں بھی اس کشیدگی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی رکاوٹیں دیگر عالمی منڈیوں کو بھی بالواسطہ طور پر متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا سفارتی سطح پر اس مسئلے کا کوئی حل نکلتا ہے یا تجارتی جنگ کا یہ سلسلہ مزید آگے بڑھتا ہے۔