LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں اسرائیل سے متعلق پالیسی پر بحث اور غزہ جنگ کے اثرات

News Image
دہائیوں تک واشنگ턴 میں اسرائیل کی حمایت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا تھا لیکن جنگ غزہ نے اس روایتی سیاسی اتفاق رائے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ جوش رشنگ نے اس بات کی گہرائی سے تحقیق کی ہے کہ اس تبدیلی کی وجوہات کیا ہیں اور اس کے مستقبل میں کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
واشنگ턴 کے سیاسی حلقوں میں اسرائیل کو دہائیوں سے ایک ایسا حلیف سمجھا جاتا تھا جس پر تنقید کرنا یا جس کی حمایت پر سوال اٹھانا امریکی سیاست میں ممنوع تصور کیا جاتا تھا۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان اسرائیل کے حوالے سے ہمیشہ ایک اٹل اتفاق رائے پایا جاتا تھا، جو ہر قسم کی علاقائی صورتحال اور عالمی دباؤ سے بالاتر تھا۔ تاہم، غزہ میں جاری شدید تنازع اور وہاں ہونے والی تباہی نے اس روایتی اور دیرینہ اتفاق رائے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور امریکی دارالحکومت میں اس پر کھل کر بحث ہونے لگی ہے۔ مشہور تجزیہ کار اور صحافی جوش رشنگ نے اس اہم تبدیلی کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے کہ کس طرح غزہ کے بحران نے واشنگ턴 کی سوچ کو بدلنے پر مجبور کیا۔ ماضی کے برعکس، اب امریکی قانون سازوں، خصوصاً نوجوان نسل اور ترقی پسند حلقوں کی طرف سے اسرائیل کی عسکری پالیسیوں پر کھل کر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جنگ کے دوران شہری ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی صورتحال نے امریکی عوام اور پالیسی سازوں کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ سے متعلق روایتی امریکی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کریں۔ اس تبدیلی کے اثرات صرف ایوانِ صدر یا کانگریس تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ امریکی معاشرے اور تعلیمی اداروں میں بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے طلباء اور سول سوسائٹی کے مختلف طبقات کی جانب سے غزہ میں فوری جنگ بندی اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جا رہی ہے، جس نے امریکی سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی پالیسیوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل مخالف آوازیں اب پہلے سے کہیں زیادہ توانا ہو چکی ہیں اور ریپبلکن پارٹی کے ساتھ اس معاملے پر ہونے والا اتفاق اب متنازع بنتا جا رہا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے یہ سوال شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ آیا یہ تبدیلی صرف ایک عضویاتی ردعمل ہے یا پھر امریکی خارجہ پالیسی میں ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ امریکی حکومت کی سطح پر اسرائیل کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات اب بھی بنیادی طور پر برقرار ہیں، لیکن واشنگ턴 میں اب بلاشرط حمایت کا دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جوش رشنگ کی تحقیقاتی رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غزہ کا بحران وہ نکتہ بن چکا ہے جہاں امریکہ کی اندرونی سیاست اور خارجہ پالیسی کا توازن ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو رہا ہے۔