LIVE
Loading Breaking News...

بغداد کے فوجی اڈے سے امریکی فوج کا مکمل انخلا، دو دہائیوں کا باب تمام

News Image
امریکی فوج کے دستوں نے عراقی دارالحکومت بغداد میں واقع اپنے فوجی اڈے سے باضابطہ طور پر مکمل انخلا کر لیا ہے۔ یہ قدم دو دہائیوں پر محیط امریکی عسکری موجودگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے نئے سیکورٹی سمجھوتوں کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
عراقی دارالحکومت بغداد میں واقع اہم امریکی فوجی اڈے سے امریکی فوج کے دستوں کا مکمل انخلا عمل میں آ گیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے ساتھ ہی عراق میں امریکی عسکری موجودگی کا ایک طویل باب تمام ہو گیا ہے جو کہ تقریبا دو دہائیوں پر محیط تھا۔ اس انخلا کو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری مذاکرات اور نئے اسٹریٹجک فریم ورک کی روشنی میں ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ عراقی حکام کے مطابق اس عسکری اڈے کا کنٹرول اب مکمل طور پر عراقی سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا گیا ہے جو ملک کی اندرونی سلامتی کی ذمہ دار ہیں۔ یاد رہے کہ سال دو ہزار تین کے دوران عراق میں بین الاقوامی مداخلت کے بعد امریکی افواج نے ملک کے مختلف حصوں میں اپنے اڈے قائم کیے تھے جہاں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عراقی فورسز کی تربیت کا فریضہ انجام دیا جاتا رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات کی بہتری اور عراقی حکومت کے مطالبات کے پیش نظر ان اڈوں کو آہستہ آہستہ خالی کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ بغداد کے اس اہم مرکز سے آخری دستوں کا انخلا اسی پالیسی کا عملی مظہر ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو روایتی جنگی شراکت داری سے ہٹ کر دوطرفہ سفارتی اور اقتصادی تعاون کی طرف منتقل کرنا ہے۔ اس موقع پر عراقی عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ ملک کی سکیورٹی فورسز اب مکمل طور پر خود کفیل ہو چکی ہیں اور کسی بھی بیرونی فوجی مدد کے بغیر ملک کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ دوسری جانب واشنگٹن میں حکام کا کہنا ہے کہ انخلا کا یہ عمل خطے سے مکمل پسپائی نہیں ہے بلکہ عراقی حکومت کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے شراکت داری کی نوعیت کو تبدیل کرنا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اس اقدام سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آنے کی توقع ہے اور عراق اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے مزید آزادانہ فیصلے کر سکے گا۔