LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا فیصلہ مؤخر کرنے کا اعلان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر فوری معاہدے کے امکان کے پیش نظر تہران پر نئے حملے روک رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں بتایا کہ خطے کے ممالک کی درخواست پر انہوں نے حملے کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شب اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری عزائم کو روکنے اور اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک فوری معاہدے کے حصول تک تہران پر کسی بھی نئے حملے کو مؤخر کرنے پر تیار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ایران اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے وقت مانگا گیا ہے جو اس آبنائے کی مکمل بحالی اور ایرانی جوہری خطرے کے خاتمے کا باعث بنے۔ اس درخواست کی بنیاد پر انہوں نے دنیا کے بہترین مستقبل اور ایک خوشحال ایران کی بقا کے لیے حملے منسوخ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، بشرطیکہ جلد از جلد ایک قابل عمل معاہدہ طے پا جائے۔ دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطوں میں واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کے حملے یا اس میں خطے کے ممالک کی شرکت کا منہ توڑ اور تناسبی جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران خطے میں امریکہ کے غیر مستحکم کرنے والے اقدامات اور اس کے پیدا کردہ سیکیورٹی چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے۔ تہران کے سیکیورٹی اداروں سے وابستہ میڈیا آؤٹ لیٹس نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے کی صورت میں خلیجی ریاستوں کے تیل اور گیس کے تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کشیدگی کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں اور تنازع کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز رانی متاثر ہوئی ہے۔ کویت کی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ حال ہی میں کئی مقامات پر ڈونلڈ ڈرونز کے حملے رپورٹ ہوئے ہیں جن سے تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ دریں اثنا، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی امریکی صدر سے رابطہ کیا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اقتصادی دباؤ اور سیاسی چیلنجز کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ سفارتی ذرائع سے اس بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ عالمی معیشت مزید بحران کا شکار نہ ہو۔