LIVE
Loading Breaking News...

مراقکش کی تاریخ میں پہلی بار خاتون وزیراعظم کا تقرر

News Image
مراقکش کے شاہی محل کی جانب سے ایک تاریخی فیصلے میں فاطمہ الزہراء المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی عرب دنیا کی دوسری خاتون ہیں جو ایک اہم سنگ میل ہے۔
مراقکش کے شاہی خاندان اور حکومت کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی اعلان سامنے آیا ہے جس کے تحت فاطمہ الزہراء المنصوری کو ملک کا نیا وزیراعظم نامزد کر دیا گیا ہے۔ مراککش کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی خاتون کو ملک کے اس اعلیٰ ترین انتظامی عہدے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس تقرر کو سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے جو ملک میں خواتین کی قیادت اور سیاسی میدان میں ان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ فاطمہ الزہراء المنصوری نہ صرف اپنے ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بنی ہیں بلکہ اس تقرر کے ساتھ ہی وہ پوری عرب دنیا میں اس منصب پر فائز ہونے والی دوسری خاتون بھی بن گئی ہیں۔ عالمی سطح پر عرب دنیا میں خواتین کی اعلیٰ سیاسی مناصب پر تقرری کو ہمیشہ سے ایک چیلنج اور تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، اور فاطمہ الزہراء کا یہ منصب سنبھالنا اس خطے کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس تقرر سے مراککش کی اندرونی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ نئی وزیراعظم کے دورِ حکومت میں ملک کو درپیش معاشی اور سماجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئے اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ عوام اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ تبدیلی ملک میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور لے کر آئے گی۔