LIVE
Loading Breaking News...

کے پی کے وزیر اعلیٰ کا اسلام آباد مارچ، گورنر راج کا خطرہ برقرار

News Image
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے تمام تر دھمکیوں کے باوجود چار اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت اور گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کے امکان کو رد نہیں کیا ہے۔
پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی رہائی کے لیے چار اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب طے شدہ مارچ ہر صورت کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کا یہ سلسلہ ملک کی تاریخ میں ایک منفرد حیثیت اختیار کرے گا اور پہلے مرحلے میں تمام مظاہرین صوابی پہنچیں گے جو کہ پنجاب کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ صوابی پہنچنے کے بعد ان کے قدم مزید آگے بڑھیں گے اور صوبے کے عوام اپنے مینڈیٹ کا تحفظ بخوبی جانتے ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ حکمران جماعت سازش کے تحت اپنے کارکنوں کو پی ٹی آئی کی صفوں میں شامل کرکے انتشار پھیلانا چاہتی ہے، تاہم ان کا احتجاج پرامن اور غیر مسلح ہوگا۔ دوسری طرف وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کے گورنر نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزراء اور مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے صوبائی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت صوبے میں دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے بجائے سیاسی محاذ آرائی اور طویل مارچ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں آئینی آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے جن میں صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ بھی شامل ہے۔ وفاقی وزیر قانون اور دیگر رہنماؤں نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے اپنی پالیسیاں نہ بدلیں اور وفاق کے ساتھ تعاون نہ کیا تو مرکز سخت قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔ ادھر خیبر پختونخوا کے گورنر نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صوبے کے حالات سے مسلسل صدر مملکت کو باخبر رکھ رہے ہیں اور آئین کے تحت جو بھی فیصلہ کیا جائے گا، اس پر عمل درآمد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارعمل سامنے آ سکتا ہے۔ گورنر نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو چیلنج کیا کہ وہ پہلے صوابی کا بیریئر پار کر کے دکھائیں۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ مرکز اور صوبے کے درمیان جاری اس محاذ آرائی سے ملک میں ایک نئے سیاسی بحران جنم لے رہا ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔