Business
سعودی عرب: ینبع بندرگاہ سے تیل کی برآمدات اور پائپ لائن کی بحالی
سعودی عرب نے ڈرون حملے کے بعد بند ہونے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو دوبارہ فعال کرتے ہوئے ینبع کی بندرگاہ سے تیل کے ٹینکرز کی لوڈنگ کا عمل بحال کر دیا ہے۔ اس پیش رفت سے مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں بہتری آئی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا گیا ہے۔
سعودی عرب نے بحیرہ احمر پر واقع اپنی اہم ترین ینبع بندرگاہ سے تیل کے ٹینکرز کی لوڈنگ کا عمل باضابطہ طور پر دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ یہ قدم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے آپریشنز کی بحالی کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کے حوالے سے عالمی منڈی میں مثبت اشارے ملے ہیں۔ تجارتی ذرائع اور شپنگ کے اعداد و شمار کے مطابق، پائپ لائن کے کھلنے سے خطے میں سپلائی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، جو حال ہی میں ڈرون حملوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ اس ماہ کے شروع میں پائپ لائن پر ایک ڈرون حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد سعودی عرب کو مجبورا اس پائپ لائن کو بند کرنا پڑا تھا اور ینبع سے خام تیل کی برآمدات معطل ہو گئی تھیں۔ سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام حوثیوں پر عائد کیا تھا۔ پائپ لائن کے آپریشنز گزشتہ منگل کو دوبارہ شروع ہوئے جبکہ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو نے صارفین کو اکتوبر کے لیے ینبع سے لوڈنگ کے شیschedule سے آگاہ کر دیا ہے۔ ریفائننگ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں اس بندرگاہ سے تیل کا ایک کارگو لوڈ کیا جا चुका ہے۔
خلائی تحقیقاتی اداروں اور ویسেল ٹریکنگ فرمز نے بھی سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے ینبع اور اس کے قریب واقع المعجز ٹرمینل پر تیل کی بحالی کی تصدیق کی ہے۔ ٹینکر ٹریکرز کے مطابق، ستمبر کے آخر میں لی گئی تصاویر میں تقریباً 10 ملین بیرل خام تیل کی لوڈنگ دیکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پائپ لائن کے ذریعے تیل کے بہاؤ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے جو آنے والے دنوں میں تین سے چار ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم، حملے سے پہلے کی سطح پر مکمل واپسی میں ابھی مزید کچھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ینبع میں خام تیل کی لوڈنگ کی بحالی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کے راستے برآمدات میں بھی بہتری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ ان تمام امور کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا گیا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ سے رسد میں اضافے کے اشارے مل رہے ہیں جو عالمی معیشت اور توانائی کی ضروریات کے لیے انتہائی اہم ہیں۔