LIVE
Loading Breaking News...

ساؤدی ولی عہد اور یو اے ای کے نائب صدر کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو

News Image
ساؤدی ولی عہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زايد النہیان کے درمیان ریاض میں ایک اہم ملاقات ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران باہمی برادرانہ تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
ساؤدی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زايد النہیان کے درمیان دارالحکومت ریاض میں ایک اہم ملاقات ہوئی ہے۔ ساؤدی سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس ملاقات کے دوران دونوں برادر ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات کے فروغ اور خطے میں رونما ہونے والی حالیہ اہم پیش رفت پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس اعلیٰ سطحی بیٹھک میں ساؤدی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بھی موجود تھے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے نئے چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں اور یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ساؤدی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل دونوں خلیجی ممالک کے درمیان یمن کے تنازع پر پالیسی کے حوالے سے کچھ اختلافات پیدا ہو گئے تھے، تاہم حالیہ مہینوں میں دونوں برادر ممالک نے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں ریاض نے ابوظہبی پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ جنوبی یمن کے علیحدگی پسندوں کی حمایت کر کے ساؤدی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ تاہم رواں سال جولائی کے مہینے میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور وزراء کی جانب سے سوشل میڈیا پر دوستی اور اتحاد کے پیغامات کا سلسلہ شروع ہوا، جس سے دونوں روایتی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے واضح اشارے ملے تھے۔ اسی دوران یمن کی خانہ جنگی میں ایک بار پھر شدت آ گئی جب حوثی باغیوں نے ساؤدی قیادت والے حکومتی اتحاد کے خلاف نئی مہم کا آغاز کیا اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ساؤدی سرزمین کو بھی نشانہ بنایا۔ حوثی باغیوں کی جانب سے ساؤدی بحری جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد ریاض نے عالمی اتحادیوں سے مدد کے لیے رابطے بھی تیز کر دیے ہیں۔ ساؤدی عرب اور متحدہ عرب امارات ماضی میں یمن، سوڈان اور قرنِ افریقہ سمیت کئی امور پر مختلف مؤقف رکھتے آئے ہیں، لیکن موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں خلیجی طاقتوں کے مابین یہ ملاقات خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔