LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا طالبان حکومت سے عسکریت پسندانہ ذہنیت ترک کرنے کا مطالبہ

News Image
پاکستان نے عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی پرانی عسکریت پسندانہ سوچ سے باہر نکل کر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کی جانب سے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دے گا۔
وفاقی حکومت کے ترجمان نے اپنے حالیہ بیانات میں افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنی روایتی جنگجویانہ اور عسکریت پسندانہ ذہنیت کو فوری طور پر ترک کریں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان عبوری حکومت کو اب ایک ذمہ دار ریاست کی طرح برتاؤ کرنا چاہیے اور اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہو گا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جائے اور تخریب کاری کے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور پرامن بقائے باہمی کی پالیسی کو فروغ دیا ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کا عزم ہے کہ ملک کے اندر یا باہر سے امن کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ وفاقی سطح پر جاری ہونے والے بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ افغان قیادت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے تاکہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین تجارت، سفارت کاری اور عام شہریوں کی نقل و حرکت کے امور خوش اسلوبی سے چل سکیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دیرپا امن کا دارمدار باہمی اعتماد اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر ہے۔ اگر کابل انتظامیہ نے اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو دوطرفہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان توقع کرتا ہے کہ خطے کے مفاد میں افغان حکومت اس سنجیدہ پیغام کا مثبت جواب دے گی اور خطے میں استحکام لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔