LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان پولیو کیس 2026: پانچواں کیس رپورٹ، بنوں سب سے زیادہ متاثر

News Image
پاکستان میں انسداد پولیو کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے کیونکہ ملک بھر میں سال 2026 کا پانچواں پولیو کیس رپورٹ ہو گیا ہے۔ بنوں ڈویژن اس وائرس کا نیا گڑھ بنتا جا رہا ہے جہاں سے چوتھا کیس سامنے آیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان میں انسدادِ پولیو کے تمام تر دعوؤں کے باوجود موذی وائرس کے وار جاری ہیں، اور رواں سال 2026 کا پانچواں پولیو کیس باضابطہ طور پر تصدیق کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والے طبی نمونوں میں ایک بار پھر پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جو کہ صحت کے اداروں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد ملک بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری مہمات پر سوالیہ نشان لگنا شروع ہو گئے ہیں اور طبی ماہرین نے ہنگامی بنیادوں پر اقداماتن اٹھانے پر زور دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا کا بنوں ڈویژن ایک بار پھر پولیو وائرس کا سب سے بڑا گڑھ یا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ رواں سال سامنے آنے والے کیسز میں سے اکیلے بنوں ڈویژن سے ہی یہ چوتھا پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے، جو اس علاقے میں وائرس کی شدید موجودگی اور مقامی سطح پر حفاظتی قطرے پلانے میں درپیش مشکلات کی غمازی کرتا ہے۔ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ بنوں اور اس سے متصلہ علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران سکیورٹی کے مسائل اور بعض علاقوں میں والدین کی ہچکچاہٹ وائرس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ دوسری جانب ملک کے دیگر حصوں خصوصاً بلوچستان میں بھی پولیو کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ نے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان ساؤتھ نے تربت اور گرد و نواح میں ایک نئی انسدادِ پولیو ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا ہے تاکہ بچوں کو اس ناگہانی معذوری سے محفوظ بنایا جا سکے۔ اس مہم کا مقصد گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا اور عوام میں اس موذی مرض کے خلاف شعور بیدار کرنا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور بین الاقوامی شراکت داروں بشمول عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسف نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک والدین اپنے بچوں کو خود آگے بڑھ کر پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلوائیں گے، اس وقت تک ملک کو اس بیماری سے پاک کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ وفاقی اور صوبائی وزارتِ صحت کی جانب سے والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انسدادِ پولیو ورکرز کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔