LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران پر حملے سے گریز، نئے معاہدے کے اشارے

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر متوقع حملے کو مذاکرات میں پیش رفت اور جلد ممکنہ معاہدے کی امید پر منسوخ کر دیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق وہ تہران کے ساتھ ایک فوری اور جامع سمجھوتہ چاہتے ہیں۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر متوقع حملوں کو اچانک معطل کرنے کے فیصلے نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث اور تجسس کو جنم دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف نئے حملے فی الحال روک دیے ہیں کیونکہ انہیں تہران کے ساتھ جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا یہ قدم خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے کی ایک ہلکی سی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سی این این اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ طے کرنا چاہتے ہیں جو باہمی تنازعات کو جلد از جلد ختم کر سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حملے اس شرط پر منسوخ کیے گئے ہیں کہ فریقین کے درمیان کوئی سمجھوتہ انتہائی تیزی اور کامیابی کے ساتھ طے پا جائے۔ امریکی قیادت کی جانب سے اس سفارتی اشارے کو ایک بڑی تبدیلی مانا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے پہلے خطے میں شدید کشیدگی اور عسکری تصادم کے خدشات عروج پر پہنچ چکے تھے۔دوسری جانب، سیاسی اور عسکری تجزیہ کار اس پیش رفت کو انتہائی محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ سفارتی چینلز کے ذریعے رابطوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، لیکن تاحال ایران اور امریکہ کے درمیان کسی حتمی یا رسمی معاہدے کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی انتظامیہ خطے میں مزید فوجی الجھاؤ سے بچنے کے لیے اقتصادی اور سفارتی دباؤ کا حربہ استعمال کر رہی ہے تاکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا تہران اور واشنگٹن کے مابین یہ مبینہ بات چیت کسی ٹھوس معاہدے کی شکل اختیار کرتی ہے یا یہ صرف عارضی کشیدگی میں کمی کا ایک وقفہ ہے۔ عالمی برادری اور مشرق وسطیٰ کے ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی غلط قدم سے خطے کا امن ایک بار پھر داؤ پر لگ سکتا ہے۔