Pakistan
اسلام آباد اے ٹی سی: ایمان مزاری اور ہادی علی کے کیس میں اہم پیشرفت
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اڈیالہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایمان مزاری اور ان کے خاوند کے مقدمے کی بازیابی اور وکالت ناموں پر دستخط کے بعد سامنے آیا۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے اڈیالہ جیل کے حکام کے خلاف دائر توہین عدالت کی کارروائی کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ قانونی پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب انسانی حقوق کی معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی جانب سے مقدمہ بازی کے لیے درکار ضروری وکالت ناموں پر دستخط کر دیے گئے۔ عدالت نے اس معاملے میں مزید کارروائی نہ کرتے ہوئے اب اس کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ 6 اکتوبر مقرر کی ہے جس دن دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وکلا کی جانب سے جیل حکام کے رویے اور ان تک رسائی نہ ملنے کے حوالے سے شکایات سامنے آئی تھیں جس کے بعد عدالت نے توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے تھے۔ تاہم اب جب کہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے وکالت ناموں پر دستخط کیے جا چکے ہیں، توہین عدالت کی کارروائی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستانی وکلا کی مبینہ گرفتاریوں اور عدالتی ہراسانی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹس سمیت کئی عالمی اداروں نے پاکستان میں انسانی حقوق کے وکلا کو درپیش مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی فوری رہائی اور عدالتی ہراسانی کے اس نہ ختم ہونے والے سلسلے کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وکلا کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران تحفظ فراہم کیا جانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اب جب کہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں اس معاملے کی سماعت آگے بڑھ رہی ہے، تمام نظریں 6 اکتوبر پر مرکوز ہیں جہاں عدالت کی جانب سے آئندہ کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ قانونی حلقوں میں اس کیس کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کا تعلق نہ صرف مخصوص شخصیات سے ہے بلکہ ملک میں قانون کی بالادستی اور وکلا کے حقوق سے بھی جڑا ہوا ہے۔