World
آبنائے ہرمز کشیدگی: ایرانی فوج کا اہم بیان
ایرانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ آف ہرمز میں مکمل طور پر ایرانی حکم اور قوانین کی پاسداری کی جا رہی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
تہران: ایرانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اہم بین الاقوامی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں اس وقت مکمل طور پر 'ایرانی حکم' نافذ العمل ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس اور کشیدہ ہے۔ ایرانی عسکری حکام کے مطابق، اسٹریٹ آف ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں اور بین الاقوامی ٹریفک کو تہران کے طے کردہ ضوابط اور سکیورٹی پروٹوکولز کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاسداران انقلاب اور باقاعدہ فوج خطے میں اپنی پوزیشنز کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکہ کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا تو اس کا انتہائی سخت اور ندامت آمیز جواب دیا جائے گا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے جہاز بھی اس خطے سے کافی فاصلے پر ہٹ گئے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے براہ راست اثرات عالمی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور مشرق وسطیٰ کی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عالمی منڈی میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے تیل کی ترسیل پر انحصار کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کو سفارتی سطح پر حل نہ کیا گیا تو خطے میں توانائی کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، جبکہ تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔