World
روسی حملے اور یوکرین کی تباہ شدہ اسٹیل انڈسٹری
روسی فضائی اور میزائل حملوں کے نتیجے میں یوکرین کی باقی ماندہ اسٹیل انڈسٹری کاپہیہ جام ہو گیا ہے۔ اس تباہی سے ملکی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے جو طویل عرصے سے اس صنعت کی بحالی کی منتظر تھی۔
یوکرین کی باقی ماندہ اسٹیل ورکس، جو کہ ملک کی معیشت کا ایک انتہائی اہم اور بنیادی ستون سمجھی جاتی تھیں، اب روسی فوج کے مسلسل اور شدید حملوں کی وجہ سے عملی طور پر بند ہو چکی ہیں۔ جاری تنازعے اور شدید بمباری کے باعث اس اہم شعبے کی پیداوار تقریباً رک گئی ہے، جس نے ملک کے صنعتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسٹیل کی صنعت یوکرین کی برآمدات اور زرمبادلہ کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھی، اور اس کی بربادی سے ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صنعت کی بحالی میں برسوں کا عرصہ لگ سکتا ہے کیونکہ انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی حد تک زیادہ ہے۔ روسی میزائل اور فضائی مہمات نے نہ صرف فیکٹریوں کی عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے بلکہ وہاں کام کرنے والے عملے اور توانائی کے نظام کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ یوکرین کی حکومت اور صنعتی رہنما اس بحران سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر امداد کی اپیل کر رہے ہیں، تاہم موجودہ سکیورٹی صورتحال میں پیداوار کا دوبارہ شروع ہونا فی الحال ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اس تباہی نے نہ صرف مقامی سطح پر بے روزگاری میں اضافہ کیا ہے بلکہ عالمی منڈی میں اسٹیل کی رسد اور قیمتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔