LIVE
Loading Breaking News...

ہیول (Huel) کا متنازع اشتہار برطانیہ میں پابندی کا شکار

News Image
برطانیہ کے اشتہاری نگراں ادارے نے ہیول کے ایک اشتہار پر پابندی عائد کر دی ہے جس میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ اس کی مصنوعات روایتی خوراک کی مکمل جگہ لے سکتی ہیں۔ ادارے کے مطابق اس طرح کے دعوے صارفین کے لیے گمراہ کن اور غذائی اعتبار سے نامناسب ہو سکتے ہیں۔
برطانیہ کے اشتہاری نگراں ادارے 'ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرڈز اتھارٹی' (ASA) نے مقبول برانڈ 'ہیول' (Huel) کے ایک اشتہار پر باضابطہ طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اشتہار میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ کمپنی کی تیار کردہ مصنوعات عام اور روایتی خوراک کا مکمل متبادل بن سکتی ہیں۔ نگراں ادارے کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے اشتہارات دیکھ کر عام ناظرین اور صارفین کے ذہن میں یہ غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ تمام روایتی غذا کو چھوڑ کر صرف ہیول کی مصنوعات پر انحصار کرنا صحت اور غذائیت کے اعتبار سے مکمل طور پر موزوں اور درست عمل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متوازن غذا انسانی صحت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور کسی بھی ایک مصنوعی یا متبادل پروڈکٹ کو تمام روایتی کھانوں کا نعم البدل قرار دینا طبی اور غذائی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس اشتہار کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لینے کے بعد اشتہاری واچ ڈاگ نے فیصلہ کیا کہ یہ مہم صارفین کو گمراہ کرنے کا باعث بن رہی ہے، جس کے بعد اس کی نشر و اشاعت پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ برانڈ کی جانب سے اگرچہ ایسی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں جو غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ تازہ سبزیوں، پھلوں اور دیگر قدرتی کھانوں کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ اس فیصلے کے بعد اشتہاری صنعت میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ہیلتھ فوڈ اور سپلیمنٹس فروخت کرنے والی کمپنیوں کو اپنے اشتہارات میں کس حد تک دعوے کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ واچ ڈاگ کی اس کارروائی کو صارفین کے حقوق کے تحفظ اور گمراہ کن طبی یا غذائی دعووں کے خلاف ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مستقبل میں کمپنیاں اپنے اشتہارات تیار کرتے وقت اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ صحت سے متعلق ایسے غیر مصدقہ دعوے ہرگز پیش نہ کریں جو عام عوام کے لیے نقصان دہ یا مغالطے کا سبب بن سکتے ہوں۔