World
آن لائن رومانس اسکیم اور فراڈ سے پیاروں کو بچانے کا طریقہ
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ہیلن نامی خاتون نے انکشاف کیا ہے کہ کس طرح ان کی والدہ ایک آن لائن رومانس اسکیم کا شکار ہو گئیں اور انہوں نے فراڈیوں کو بھاری رقم منتقل کر دی۔ یہ کہانی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پیار کے جال میں پھنسنے والے پیاروں کو کیسے بروقت بچایا جا سکتا ہے۔
جدید ڈیجیٹل دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں سائبر جرائم اور آن لائن دھوکہ دہی کے واقعات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح کے ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والی خاتون ہیلن نے انکشاف کیا ہے کہ کس طرح ان کی معصوم ماں آن لائن رومانس اسکیم یا پیار کے فریب کا شکار ہو گئیں۔ ان کی والدہ نے مبینہ فراڈیوں کو اپنی زندگی بھر کی جمع پੂੰجی سے ایک لاکھ چالیس ہزار برطانوی پاؤنڈز کی خطیر رقم بھیج دی، جس سے خاندان شدید ذہنی کوفت اور مالی بحران کا شکار ہو گیا۔ ماہرین کے مطابق رومانس اسکیمز آج کے دور میں دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا ایک ایسا فراڈ ہے جہاں مجرم سوشل میڈیا یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تنہا یا بزرگ افراد کو اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ فراڈیے محبت اور جھوٹے جذباتی رشتوں کا جال بن کر متاثرین کا اعتماد جیتتے ہیں اور پھر مختلف بہانوں سے ان سے بھاری رقوم بٹورنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہیلن کے مطابق ان کی والدہ بھی کچھ اسی قسم کے جال میں پھنس گئی تھیں جہاں دھوکہ بازوں نے خود کو ایک کامیاب اور معتبر شخصیت ظاہر کر کے ان سے رابطہ کیا اور آہستہ آہستہ انہیں مالی مدد کے نام پر رقم منتقل کرنے پر آمادہ کیا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے خاندان نے انتہائی ہوشیاری اور صبر کا مظاہرہ کیا۔ ہیلن نے سب سے پہلے اپنی والدہ کے رویے میں آنے والی تبدیلیوں کا بغور جائزہ لیا، جیسے کہ انٹرنیٹ پر زیادہ وقت گزارنا، ذاتی مالی امور کو خفیہ رکھنا اور خاندان سے دوری اختیار کرنا۔ جب شکوک و شبہات یقین میں بدل گئے تو انہوں نے مناسب مشاورت اور قانونی اداروں کی مدد سے اپنی ماں کی کونسلنگ شروع کی اور انہیں حقائق سے آگاہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے پیاروں کو ایسے فراڈ سے بچانے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ان سے کھلا مکالمہ رکھا جائے، انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہی دی جائے اور اگر خدانخواستہ کوئی اس طرح کے فریب کا شکار ہو جائے تو فوری طور پر متعلقہ بینک اور سائبر کرائم حکام سے رابطہ کیا جائے۔