LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور برطانوی ڈیجیٹل میوزیم کا قیام

News Image
برطانیہ کے 100 سے زائد عجائب گھروں کے 70 ملین سے زائد نوادرات اور نمونوں کو ایک آن لائن ڈیجیٹل میوزیم میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس جدید منصوبے میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے زمین کی قدیم تاریخ اور ارضیاتی رازوں سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے۔
برطانیہ میں جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک انوکھا اور تاریخی ڈیجیٹل سپر میوزیم تیار کیا جا رہا ہے۔ اس عظیم الشان منصوبے کے تحت ملک بھر کے ایک سو سے زائد عجائب گھروں اور اداروں میں رکھے گئے ستر ملین سے زائد سائنسی و تاریخی نمونوں کو ایک ہی آن لائن پلیٹ فارم پر یکجا کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد محققین، سائنسدانوں اور عام عوام کو دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل ذخیرے تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے، جس سے انسانی اور ارضیاتی تاریخ کے کئی ان کہے باب روشن ہوں گے۔ اس ڈیجیٹلائزیشن کے عمل میں مصنوعی ذہانت ایک کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اے آئی الگورتھمز کی مدد سے لاکھوں نوادرات کو نہ صرف تیزی سے اسکین اور کیٹلاگ کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے درمیان موجود تاریخی اور سائنسی روابط کو بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔ پرانے اور خستہ حال نمونوں کی ڈیجیٹل بحالی کے لیے بھی جدید ترین کمپیوٹر وژن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے محققین کو کرہ ارض کی ارضیاتی اور حیاتیاتی ارتقائی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیجیٹل سپر میوزیم سائنسی تحقیق کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دے گا۔ اب دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا محقق بغیر برطانیہ کا سفر کیے ان قیمتی نمونوں کا تفصیلی معائنہ کر سکے گا۔ اس سے نہ صرف تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی بلکہ نایاب نوادرات کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس منصوبے کے ذریعے آنے والی نسلیں ہمارے کرہ ارض کی تاریخ اور حیاتیاتی تنوع کے بارے میں زیادہ گہرائی سے جان سکیں گی۔