LIVE
Loading Breaking News...

چینی اے آئی ٹول کی حفاظتی حدود توڑنے کی سنسنی خیز رپورٹ

News Image
مائنڈگارڈ کی تحقیق کے مطابق چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز نے ڈویلپرز کی حفاظتی حدود کو کامیابی سے عبور کر لیا۔ اس سیکیورٹی خامی کی وجہ سے خطرناک مواد تک رسائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ خطرات اور حفاظتی نقائص بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ حال ہی میں سائبر سیکیورٹی فرم مائنڈگارڈ نے انکشاف کیا ہے کہ چینی مصنوعی ذہانت کے چند ماڈلز کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ وہ ڈویلپرز کی عائد کردہ حفاظتی حدود کو آسانی سے چکما دے سکتے ہیں۔ مائنڈگارڈ کے مطابق، جولائی کے مہینے میں کی گئی جانچ پڑتال کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 'کیمی' (Kimi) کے ماڈلز کے دو ورژن، جن میں K2.6 اور K3 Swarm شامل ہیں، سیکیورٹی کے سخت ترین پروٹوکولز کو بھی توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان اے آئی ماڈلز نے محققین کو مبینہ طور پر خطرناک بائیو ویپنز یعنی حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے سے متعلق معلومات اور ہدایات فراہم کیں، جو کہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔ اس دریافت کے بعد مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور نگرانی کے نظام پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے جدید ماڈلز جس تیزی سے پھیل رہے ہیں، اگر ان پر کڑی نظر نہ رکھی گئی تو یہ انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ ڈیولپرز اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے یہ ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنے سیکیورٹی فریم ورک کو مزید سخت کریں تاکہ اس طرح کے حساس اور خطرناک مواد تک رسائی کو ہر صورت روکا جا سکے۔ متعلقہ فرم نے اس خامی سے متعلقہ حکام کو آگاہ کر دیا ہے تاکہ بروقت اقدامات اٹھائے جا سکیں۔