World
انڈونیشیا جیل اسکینڈل، قیدیوں کو لگژری سہولیات دینے پر پانچ افسران معطل
انڈونیشیا کی سیبنونگ جیل میں قیدیوں کے لیے لگژری اپارٹمنٹس نما بیرکوں کے انکشاف کے بعد وارڈن سمیت پانچ اعلیٰ افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
انڈونیشیا میں حکام نے سیبنونگ جیل کے اندر قیدیوں کے لیے مبینہ طور پر لگژری اپارٹمنٹس نما سہولیات اور عیش و آرام کا کمپاؤنڈ دریافت ہونے کے بعد ایک بڑے اسکینڈل کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس سنگین غفلت اور بدعنوانی کے الزام میں جیل کے وارڈن سمیت پانچ اہم افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ جیل کے نظام میں موجود خامیوں اور بدعنوانی کی نشاندہی کرتا ہے جہاں قانون کو بالائے طاق رکھ کر مخصوص قیدیوں کو غیر قانونی سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جیل کے اندر ایک ایسا زون بنایا گیا تھا جو عام قیدیوں کے برعکس کسی فائیو سٹار ہوٹل یا پرتعیش اپارٹمنٹ کی طرح لیس تھا، جہاں جیل کے قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ جیل خانہ جات کے اعلیٰ حکام حرکت میں آئے اور فوری طور پر چھاپہ مار کر اس لگژری کمپاؤنڈ کا تمام سامان ضبط کر لیا۔ معطل کیے جانے والے افسران میں جیل کا وارڈن بھی شامل ہے جس پر اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور مجرموں کو مراعات دینے کا الزام ہے۔ انڈونیشیائی وزارتِ قانون اور انسانی حقوق نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس پورے معاملے کی تہہ تک جائے گی اور دیکھے گی کہ اس مکروہ دھندے میں اور کون کون سے عناصر ملوث ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس غفلت کے ذمہ دار تمام افراد کے خلاف سخت ترین تضبطی اور قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے اور جیل کے نظام کو شفاف بنایا جا سکے۔ اس انکشاف کے بعد ملک بھر میں قیدیوں کے حقوق اور جیلوں کے اندر ہونے والی کرپشن پر ایک بار پھر شدید بحث چھڑ گئی ہے، اور عوام کی جانب سے نظام کی اصلاح کے لیے پرزور مطالبات کیے جا رہے ہیں۔