LIVE
Loading Breaking News...

جیک سمتھ کا سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تحقیقات پر بیان

News Image
امریکہ کے سابق اسپیشل کونسل جیک سمتھ نے سینیٹ کی ایک کشیدہ سماعت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کی گئی تحقیقات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ انہوں نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا کہ ان کی تحقیقات کا مقصد ریپبلکنز یا قدامت پسند گروپوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا تھا۔
واشنگٹن ڈی سی میں امریکی سینیٹ کی ایک انتہائی کشیدہ اور اہم سماعت کے دوران، سابق اسپیشل کونسل جیک سمتھ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اپنی زیر قیادت چلائی جانے والی تحقیقات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ اس سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہوئے جیک سمتھ نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی تحقیقات نامناسب انداز میں ریپبلکنز اور قدامت پسند سیاسی گروہوں کو ہدف بنا رہی تھیں۔ جیک سمتھ کا کہنا تھا کہ ان کا پورا تفتیشی عمل قانون کے دائرے میں رہ کر اور مکمل طور پر غیر جانبدارانہ بنیادوں پر انجام دیا گیا تھا۔ انہوں نے سینیٹرز کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ تحقیقات کا مقصد صرف اور صرف قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا تھا اور اس میں کسی بھی قسم کے سیاسی تعصب کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے اور ان کی ٹیم نے ہمیشہ ضابطہ اخلاق اور پیشہ ورانہ اصولوں کی سختی سے پابندی کی۔ دوسری جانب، سینیٹ کے اجلاس میں موجود کئی قدامت پسند قانون سازوں نے جیک سمتھ کے کام کے طریقہ کار پر کڑے سوالات اٹھائے اور ان پر سیاسی جانبداری کا الزام عائد کیا۔ اس بحث کے دوران دونوں فریقین کے درمیان شدید گرما گرمی بھی دیکھنے میں آئی، جہاں ایک طرف ریپبلکن ارکان نے تحقیقات کو سیاسی انتقام قرار دیا، وہیں دوسری طرف ڈیموکریٹس نے جیک سمتھ کی پیشہ ورانہ دیانت داری کی بھرپور حمایت کی۔ یہ سماعت امریکی سیاسی منظر نامے میں انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اور اس سے جڑے قانونی معاملات پر امریکہ میں اب بھی گہری تقسیم پائی جاتی ہے۔ جیک سمتھ کی جانب سے اس اعلیٰ سطحی فورم پر صفائی پیش کرنے سے ایک بار پھر ان تحقیقات کے قانونی اور سیاسی اثرات پر ملک گیر بحث شروع ہو گئی ہے، جس کے آنے والے دنوں میں مزید گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔