World
اقوام متحدہ کا ہیٹی سکیورٹی فورسز کی مدت میں چھ ماہ کا اضافہ
اقوام متحدہ نے ہیٹی میں متحرک گینگ سپریشن فورس کے مینڈیٹ میں مزید چھ ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کو ملک میں جاری پرتشدد کارروائیوں اور مجرمانہ گروہوں کیخلاف تاحال خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہیٹی میں امن و امان کی بحالی اور مسلح گروہوں کے خاتمے کے لیے تعینات کی جانے والی گینگ سپریشن فورس کے مینڈیٹ میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مجرمانہ گروہوں کی جانب سے پرتشدد کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز کو اپنے مقاصد کے حصول میں شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ فورسز کو مزید وقت دیا جائے تاکہ وہ مقامی حالات کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ہیٹی میں تعینات سکیورٹی فورسز کے ارکان کو گزشتہ کئی مہینوں سے مسلح گینگسٹرز کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ وسائل کی کمی اور گینگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے فورسز اب تک زمینی سطح پر کوئی بڑی پیش رفت کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ملک کے بیشتر حصوں میں بدامنی، اغوا برائے تاوان اور قتل و غارت گری کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں، جس کی وجہ سے عام شہریوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں۔ مقامی آبادی کو فوری اور موثر امداد کی اشد ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ مینڈیٹ میں توسیع کا مقصد سکیورٹی فورسز کو اس بات کا موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی کو بہتر بنائیں اور مسلح گروہوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے نئے اقدامات کریں۔ کونسل کے ارکان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہیٹی میں دیرپا امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مجرمانہ تنظیموں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں نہ لائی جائے۔ عالمی برادری کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ہیٹی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور حالات کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔