LIVE
Loading Breaking News...

مراكش کی پہلی خاتون وزیراعظم فاطمہ الزہرا المنصوری مقرر

News Image
مراكش کے بادشاہ نے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد مراکش کی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون کو وزیراعظم مقرر کیا ہے۔ نئی وزیراعظم فاطمہ الزہرا المنصوری نے اپنے خطاب میں اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔
مراكش کے بادشاہ نے منگل کے روز مراکش کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون، فاطمہ الزہرا المنصوری کو ملک کی وزیراعظم نامزد کر دیا ہے۔ شاہی کابینہ کی جانب سے جاری کردہ اعلان کے مطابق یہ فیصلہ پارلیمانی انتخابات میں ان کی سیاسی جماعت کی شاندار کامیابی کے بعد سامنے آیا ہے۔ پچاس سالہ فاطمہ الزہرا المنصوری، جو اس سے قبل مراکش کی وزیرِ رہائش اور مراکش شہر کی میئر کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکی ہیں، اب نئی حکومت تشکیل دیں گی۔ ان کی سینٹر رائٹ جماعت 'اوتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی' (پی اے ایم) نے پارلیمنٹ کے ایوانِ نمائندگان کی 395 میں سے 97 نشستیں حاصل کرکے انتخابات میں برتری حاصل کی ہے۔ تقرری کے بعد اپنے پہلے ٹیلی ویژن خطاب میں فاطمہ الزہرا المنصوری نے اس تقرری کو انتہائی تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون کو حکومت چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جو تمام مراکشی خواتین کے لیے فخر کا باعث ہے۔ چونکہ ان کی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی، اس لیے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے انہیں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحادی حکومت بنانا ہوگی، جبکہ بادشاہ کو اہم پالیسیوں پر وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ نئی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اصل کام اب شروع ہوتا ہے اور وہ سب سے پہلے اپنی جماعت کے اندرونی مشاورت کا عمل شروع کریں گی تاکہ دیگر سیاسی گروپوں کے ساتھ بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ نئی کابینہ کو بیروزگاری، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور نوجوانوں کو درپیش سماجی و معاشی مسائل جیسے اہم چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ انتخابی عمل ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں نوجوانوں کی معاشی مشکلات اور روزگار کے حوالے سے عوامی توقعات کافی بلند ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت عوام بالخصوص نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لیے حقیقت پسندانہ اور عملی اقدامات اٹھائے گی تاکہ ملک میں معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے اور عوام کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔