Business
ایران پر پابندیاں برقرار، ٹرمپ کے بیان کے بعد تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں نرم کرنے سے صاف انکار کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس جرات مندانہ اور سخت مؤقف کے بعد توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاروں نے نئی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اس وقت اضافہ دیکھا گیا جب سابق امریکی صدر اور اہم سیاسی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی جن میں کہا جا رہا تھا کہ وہ تہران کے خلاف عائد اقتصادی پابندیوں کو نرم کرنے پر رضامند ہیں۔ اس بیان نے بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس سے سپلائی کے حوالے سے خدشات برقرار رہیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدہ تعلقات اور سخت پابندیوں کے تسلسل کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی رس رسد شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دوٹوک مؤقف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی بدستور جاری رہے گی، جس کے براہ راست اثرات خام تیل کے نرخوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ منڈی میں اس خبر کے آتے ہی خریداری کا رجحان بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب، کاروباری حلقوں اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی جیو پولیٹیکل صورتحال تیل کی مارکیٹ کی سمت کا تعین کرے گی۔ توانائی کی قیمتوں میں اس اتار چڑھاؤ سے نہ صرف بڑے خریدار متاثر ہوں گے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے منفی یا مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں۔ سرمایہ کار اب پوری دنیا میں مرکزی بینکوں کے اقدامات اور سیاسی بیانات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔