Business
خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، امریکی صدر کے مؤقف اور شپنگ کی بحالی کا اثر
خام تیل کی مارکیٹ میں اس وقت نمایاں مندی دیکھنے میں آ رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے کم ہونے اور شپنگ روٹس کی بحالی کے آثار نمایاں ہوئے۔ امریکی صدر کی جانب سے ممکنہ حملوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر فی بیرل سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اس وقت بڑی گراوٹ دیکھنے میں آئی جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے حوالے سے صورتحال بہتر ہونے لگی۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملوں کے حوالے سے اپنے مؤقف میں لچک لانے اور پالیسی تبدیل کرنے کے بعد تیل کی مارکیٹ میں تیزی سے مندی کا رجحان پھیل گیا۔ ماہرین کے مطابق ہائپر لیکویڈ اور دیگر تجارتی پلیٹ فارمز پر خام تیل کی قیمتوں میں فی بیرل ایک ڈالر سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک اور جہاز رانی کے معمولات بحال ہونے سے سپلائی سے وابستہ خدشات بھی کم ہو گئے ہیں۔ چند روز قبل جنگی خطرات کے باعث برینٹ آئل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال نے تیل کی ترسیل کے راستوں کو محفوظ بنانے میں مدد دی ہے۔ تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی میں کمی سے سپلائی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے جس کا براہ راست اثر عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں پر پڑا ہے۔
اگرچہ یورپی منڈیوں میں فیول پمپ کی قیمتیں اب بھی دو یورو سے اوپر دیکھی جا رہی ہیں، تاہم خام تیل کی عالمی سطح پر گرتی ہوئی قیمتوں سے آنے والے دنوں میں صارفین کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل کی قیمت اسی اسی ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے جو کہ مارکیٹ میں رس رسد کے بہتر ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سرمایہ کار اور تاجر اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ماہانہ بنیادوں پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا یہ رجحان اقتصادی اعشاریوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔