World
غزہ تنازع: حملے میں زخمی بچی کی متعدد سرجریاں اور طبی امداد
غزہ میں ہونے والے ایک حملے کے بعد شدید زخمی ہونے والی بچی رسل کو انفیکشن سے بچانے کے لیے کئی سرجریوں سے گزرنا پڑا ہے۔ عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کیا گیا تھا جبکہ اسرائیلی فوج نے اس کا کوئی ریکارڈ نہ ہونے کا موقف اپنایا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران انسانی المیے بدستور جاری ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں ایک کم سن بچی رسل کو طبی پیچیدگیوں کے باعث متعدد سرجریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب غزہ میں قائم ایک خیمہ مبینہ طور پر اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے میزائل حملے کی زد میں آگیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد متاثر ہوئے اور رسل شدید زخمی ہو گئی۔ اس حملے کے بعد بچی کے جسم میں پھیلنے والے شدید انفیکشن پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹروں کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ہنگامی بنیادوں پر کئی سرجریوں کا عمل انجام دینا پڑا۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ غزہ کے اسپتالوں میں ادویات اور طبی آلات کی شدید قلت کے باوجود زخمیوں کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، اس واقعے کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس مبینہ حملے سے متعلق کوئی مصدقہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی فلاحی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں غزہ کے جنگ زدہ علاقوں میں معصوم شہریوں، بالخصوص بچوں کی مخدوش ہوتی ہوئی صحت اور طبی سہولیات کے فقدان پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ مقامی ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر غزہ میں فوری طور پر ادویات اور سرجیکل کا سامان فراہم نہ کیا گیا تو رسل سمیت دیگر زخمی ہونے والے افراد کی زندگیاں مزید خطرے میں پڑ سکتی ہیں، کیونکہ اسپتالوں کا نظام پہلے ہی انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔