LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا کم جونگ ان سے دوستانہ تعلقات اور شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں پر بیان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو اپنا دوست قرار دیتے ہوئے ان کے ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کیا ہے۔ یہ بیان اس سوال کے جواب میں سامنے آیا کہ شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار کیوں ہو سکتے ہیں جبکہ ایران کے پاس نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اپنے تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے انہیں اپنا دوست قرار دیا ہے اور ساتھ ہی پিয়انگ کے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے کو غیر اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ان سے ایک پریس کانفرنس یا گفتگو کے دوران پوچھا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے جبکہ ایران کو اس کی ہرگز اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس سوال نے عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اپنے دور صدارت کے دوران بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جونگ ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی پالیسی اپنائی تھی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی تاریخی ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ نیا بیان ان کی روایتی سفارتی سوچ کا عکاس ہے جہاں وہ ذاتی تعلقات کو ریاستی سطح کے پیچیدہ تنازعات پر فوقیت دیتے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام کو مسلسل وسعت دے رہا ہے اور اسے کسی بھی قسم کی عالمی پابندیوں کی پروا نہیں ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں امریکی صدر کا یہ بیان خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات دوہرے معیار کے تاثر کو تقویت دیتے ہیں کیونکہ واشنگٹن ایک طرف تہران کے ایٹمی عزائم کو سختی سے کچلنے کی بات کرتا ہے تو دوسری طرف شمالی کوریا کے معاملے میں نسبتاً نرم رویہ اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں اس بیان کے اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے گا کیونکہ شمالی کوریا کی طرف سے کسی بھی نئے میزائل تجربے یا ایٹمی سرگرمی کے خطرات تاحال برقرار ہیں۔