World
اجین میں مسجد کی مسماری پر کشیدگی، ہندو یاترا کا معاملہ
بھارت کے شہر اجین میں ہندو یاترا کے راستے کی وجہ سے تاریخی شاہی مسجد کے کچھ حصے کو جزوی طور پر مسمار کر دیا گیا ہے۔ مکمل انہدام کے خوف سے مقامی مسلمانوں نے خود ہی مسجد کے حصوں کو ہٹانے میں رضاکارانہ طور پر حصہ لیا۔
بھارت کے تاریخی شہر اجین میں ایک ہندو یاترا کے راستے کی تیاری کے سلسلے میں شاہی مسجد کے کچھ حصے کو جزوی طور پر مسمار کیے جانے کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے دباؤ اور مکمل انہدام کے شدید خوف کے پیش نظر، مقامی مسلمانوں نے خود ہی آگے بڑھ کر مسجد کے متنازع اور راستے میں آنے والے حصوں کو ہٹانے کا مشکل فیصلہ کیا اور رضاکارانہ طور پر اس عمل میں حصہ لیا تاکہ مزید بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں مذہبی مقامات اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے تنازعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مقامی مسلم کمیونٹی کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی عبادت گاہ کے تحفظ کے لیے انتہائی کڑے حالات کا سامنا ہے اور وہ اس معاملے میں مزید کشیدگی سے گریز کرنا چاہتے ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔
انتظامیہ اور مقامی پولیس نے اس کارروائی کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے فتنہ و فساد یا احتجاج کو روکا جا سکے۔ شہر میں اس واقعے کے بعد سے خوف اور بے یقینی کی فضا طاری ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقلیتی رہنماؤں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتی عبادت گاہوں کے احترام کو یقینی بنائیں۔