LIVE
Loading Breaking News...

یائر لپیڈ کا نیتن یاہو پر انتخابی خوف پھیلانے کا الزام

News Image
اسرائیلی اپوزیشن کے رہنما یائر لپیڈ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے اگلے ماہ ہونے والے عام انتخابات کے دوران ممکنہ حملوں کی پیشگوئی کی تھی۔ لپیڈ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو سیاسی فائدے کے لیے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے سیاسی حلقوں میں اس وقت شدید گرما گرمی پائی جاتی ہے جب اپوزیشن لیڈر اور مستقبل کے سیاسی حریفوں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی اپوزیشن کے رہنما یائر لپیڈ نے ملک کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ اگلے ماہ متوقع عام انتخابات کے تناظر میں عوام میں بلاوجہ خوف و ہراس پیدا کر رہے ہیں۔ یائر لپیڈ کے مطابق نیتن یاہو کا یہ دعویٰ کہ انتخابات کے دوران ممکنہ حملے ہو سکتے ہیں، حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ محض ایک سیاسی حربہ ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے آنے والے دنوں میں ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی تھی، جس پر ملک کے سیاسی اور دفاعی منظرنامے میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ نیتن یاہو کے حامیوں کا موقف ہے کہ ملک کو اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر سخت خطرات کا سامنا ہے، اس لیے قومی سلامتی سے متعلق امور پر وارننگ دینا وزیراعظم کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ تاہم، اپوزیشن کا ماننا ہے کہ اس قسم کے بیانات کا اصل مقصد رائے عامہ کو متاثر کرنا اور سیاسی فوائد سمیٹنا ہے۔ یائر لپیڈ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ اسرائیلی عوام کو اپنے جمہوری عمل پر مکمل اعتماد ہے اور اس طرح کے ڈراؤنے خواب دکھا کر ووٹرز کو ڈرایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ لیڈرشپ کا کام قوم کو حوصلہ دینا اور بحرانوں میں متحد رکھنا ہوتا ہے نہ کہ خوف کی فضا قائم کر کے سیاسی مفادات حاصل کرنا۔ آنے والے عام انتخابات کے تناظر میں دونوں رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ مزید تیز ہونے کا امکان ہے کیونکہ دونوں فریقین اقتدار کے حصول کے لیے تمام ممکنہ سیاسی داؤ پیچ استعمال کر رہے ہیں۔