Politics
امریکی سیاست: ڈیموکریٹس کی نوجوان ووٹرز کو راغب کرنے کی حکمت عملی
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان عام طور پر وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیتے ہیں۔ تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں کو توقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف پایا جانے والا غصہ اس بار نوجوان ووٹرز کو پولنگ بوتھ تک کھینچ لائے گا۔
امریکہ میں سیاسی حلقوں کے اندر اس بات پر بحث جاری ہے کہ آنے والے انتخابی عمل میں نوجوان ووٹرز کا کردار کتنا اہم ثابت ہوگا۔ سیاسی حکمت عملی کی ماہر سیلنڈا لیک کے مطابق، عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ نوجوان ووٹرز وسط مدتی انتخابات یعنی مڈ ٹرم الیکشنز میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیتے اور ان کا ٹرن آؤٹ نسبتاً کم رہتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نوجوانوں میں سیاسی عمل سے عدم دلچسپی ایک دیرینہ چیلنج ہے جس کا سامنا روایتی طور پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو کرنا پڑتا ہے۔تاہم، موجودہ سیاسی صورتحال میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر یہ امید پیدا ہو رہی ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف پایا جانے والا شدید غصہ اور سیاسی ماحول اس روایت کو بدل سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں اور بیانات کی وجہ سے نوجوان طبقے میں جو غم و غصہ پایا جاتا ہے، وہ اسے ایک مؤثر سیاسی قوت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب نوجوانوں کو ووٹر لسٹوں میں رجسٹر کرانے اور انہیں پولنگ کے دن گھروں سے باہر نکالنے کے لیے خصوصی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ جذبات اور غصے کی بنیاد پر ووٹرز کو متحرک کرنا ایک وقتی فائدہ دے سکتا ہے، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے ڈیموکریٹک قیادت کو ایسے ठोस اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے جو نوجوان نسل کے اہم مسائل جیسے کہ روزگار، تعلیم، ماحولیاتی تبدیلی اور معاشی انصاف کا احاطہ کرتے ہوں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ سیاسی حکمت عملی کتنی کامیاب ہوتی ہے اور کیا واقعی نوجوان ووٹرز اس بار بڑی تعداد میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔