World
نئی دہلی میں خواتین کا تحفظ: زیادتی کے واقعات کے خلاف احتجاجی مہم
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پیش آنے والے زیادتی کے متعدد المناک واقعات کے بعد خواتین سڑکوں پر نکل آئیں ہیں۔ مظاہرین نے حکومت سے خواتین کے لیے عوامی مقامات کو محفوظ بنانے اور سخت قانون سازی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے زیادتی کے متعدد دردناک اور ہولناک واقعات نے ایک بار پھر ملک بھر میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان افسوسناک واقعات کے خلاف شہر کی خواتین اور سماجی کارکنوں نے سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایک مؤثر سوشل مہم کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں کا بنیادی مقصد حکومتی ایوانوں تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ دارالحکومت کی سڑکیں اور عوامی مقامات اب خواتین کے لیے انتہائی غیر محفوظ بن چکے ہیں جنہیں فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
احتجاج کے دوران خواتین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر دلیرانہ اور جاندار نعرے درج تھے، جو خواتین کے تحفظ کی ناکام ہوتی ریاستی کوششوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے مجرموں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے ایسے گھناؤنے جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ خواتین تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف مجرموں کو فوری اور کڑی سزائیں دی جائیں بلکہ نائٹ شفٹ میں کام کرنے والی خواتین، طالبات اور عام شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اور گلی محلوں میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو بھی یقینی بنایا جائے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اس مہم کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں صارفین، بالخصوص خواتین، اپنے تجربات شیئر کر رہی ہیں اور حکومت سے بنیادی انسانی حقوق کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ محض رسمی بیانات دینے یا وقتی طور پر پولیس گشت بڑھانے سے اس سنگین مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے معاشرتی سوچ کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں بھی انقلابی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس عوامی دباؤ کے بعد کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔