World
فرانس میں ملازمین کی ہڑتال اور طلبا کے احتجاج میں جھڑپیں
فرانس بھر میں تنخواہوں میں اضافے کے لیے دسیوں ہزار سرکاری ملازمین نے احتجاجی مارچ کیا جبکہ اسکولوں کے باہر طلبا کے مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں چار سو چالیس طلبا کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملک بھر میں جاری اس بحران کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
فرانس میں مہنگائی اور تنخواہوں کے جمود کے خلاف سرکاری ملازمین نے ملک بھر میں ایک بڑی ہڑتال اور احتجاجی مارچ کا آغاز کر دیا ہے، جس میں دسیوں ہزار ملازمین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے ان کی تنخواہوں میں فوری اضافہ کرے تاکہ عام شہریوں کا گزارا ممکن ہو سکے۔ اس احتجاج نے اس وقت ایک نئے اور سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی جب ملک کے مختلف تعلیمی اداروں کے باہر طلبا بھی سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ حکام کے مطابق اسکولوں کے باہر ہونے والے ہنگاموں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران کم و بیش چار سو چالیس طلبا کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ فرانسیسی دارالحکومت سمیت دیگر بڑے شہروں میں صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے اور فریقین کے درمیان مذاکرات کی کوئی امید فی الحال نظر نہیں آ رہی۔ ملک میں جاری اس دو طرفہ احتجاجی لہر کے باعث ٹرانسپورٹ، تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، جس سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز کو امن و امان کی بحالی کے لیے اضافی نفری تعینات کرنا پڑی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مزدور یونینز اور طلبا کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے تاکہ ملک کو مزید انارکی اور بحران سے بچایا جا سکے۔